تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 90
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم لوگوں کی اولا د اسی طریق کو اختیار کرے گی اور اپنے آباء کے راستہ کو چھوڑ دے گی۔کوئی تدبیر اس تقدیر کو بدل نہیں سکتی۔یہ ناممکن نظر آنے والی چیز دنیا میں سب سے زیادہ ممکن چیز ہے۔ایک رستم زماں کے لئے ایک چھوٹے سے کنکر کا اٹھالین ناممکن ہو سکتا ہے لیکن دنیا کے موجودہ نقشہ کا تبدیل نہ ہونا، ناممکن ہے ہے۔یہ نظام بدلے گا اور ضرور بدلے گا۔سوال صرف یہ ہے کہ کس کے ہاتھ سے بدلے گا ، ہمارے ہاتھ سے یا اور لوگوں کے ہاتھ سے؟ اگر ہمارے ہاتھ سے اس نظام نے بدلنا ہے تو ہمیں پہلے اپنے آپ کو بدلنا پڑے گا۔جس چیز کو بدلنے کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں، اسے ہم اپنے لئے کس طرح اختیار کر سکتے ہیں؟ ایک درخت کے متعلق اگر ہم جانتے ہیں کہ وہاں بجلی گرنے والی ہے تو کیا یہ بدقسمتی نہیں ہوگئی کہ ہم اس کے نیچے کھڑے ہو جائیں؟ ایک مکان کو اگر آگ لگنے والی ہے تو کیا یہ بدقسمتی نہیں ہوگی کہ ہم اس مکان میں رہنے لگ جائیں؟ ایک پہاڑ پر اگر زلزلہ آنے والا ہے تو کیا یہ بد قسمتی نہیں ہوگی کہ ہم اس پہاڑ پر چلے جائیں؟ اسی طرح وہ چیز ، جس کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے تباہی مقدر ہے، جس کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے بربادی مقدر ہے، اس کی نقل کرنا اور اس کی پیروی اختیار کرنا ، یہ ضرور ہماری بدقسمتی ہوگی ، یہ ہماری انتہا درجہ کی حماقت ہوگی اور ہماری یہ کوشش اپنی خود کشی کے برابر ہو گئی۔پس ایمان کے ارادے کے ساتھ یہاں رہو اور تو کل کی گرہ باندھ کر رہو اور ایک زندہ خدا پر یقین رکھتے ہوئے یہاں رہو۔اگر خدا پر تمہارا یقین ہوگا، اگر خدا پر تمہارا ایمان ہوگا تو تم دیکھو گئے کہ زمین تمہارے لئے بدل جائے گی ، آسمان تمہارے لئے بدل جائے گا۔ہمارا خدا وہی ہے، جو آدم علیہ السلام کے وقت میں تھا۔مگر خدا بوڑھا نہیں ہوتا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس نے زمین اور آسمان کو بدل دیا تھا، حضرت عیسی علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ اسلام، حضرت یوسف علیہ اسلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے لئے اس نے زمین و آسمان کو بدل دیا تھا ، اسی طرح اور لاکھوں لوگ ہیں ، جن کے لئے خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بدلا۔یہی زمین و آسمان بدلنے تمہارے لیے بھی مقدر ہیں۔بشرطیکہ تم ان لوگوں کے نقش قدم پر چلو، جن کے لئے خدا تعالٰی نے پہلے زمین و آسمان کو بدلا تھا۔مطبوعه روزنامه الفضل 06 اکتوبر 1949ء) 90