تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 91

خر یک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم - اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 اکتوبر 1949ء عہدہ اور اختیار سے کام نہیں چلتا بلکہ کام کرنے سے کام ہوا کرتا ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 07 اکتوبر 1949ء بیرونی مشنوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بعض اچھے اچھے کارکن نکل رہے ہیں اور بعض نے تو نہایت اعلیٰ درجہ کا قربانی کا نمونہ دکھایا ہے۔جو بتاتا ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو وقت پڑنے پر بغیر کسی مدد اور اعانت کے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس بارہ میں سب سے اچھا نمونہ اس نوجوان نے دکھایا ہے، جو سب سے کم تعلیم یافتہ ہے۔یعنی کرم الہی ظفر۔جب موجودہ مشکلات کی وجہ سے ہم نے بعض بیرونی مشنوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور کہہ دیا کہ وہی لوگ کام جاری رکھیں، جو اپنا بوجھ آپ اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔تو اس وقت وہ مشن جن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، ان میں فرانس اور ہسپانیہ مشن بھی تھے۔ہمارے اس فیصلہ پر ان دونوں ممالک کے مشنریوں نے درخواست کی کہ ہمارے مشن بند نہ کئے جائیں۔اخراجات بیشک بند کر دیے جائیں، ہم اپنا بوجھ خود اٹھا ئیں گے اور ان مشنوں کو جاری رکھیں گے۔چنانچہ ان دونوں مشنریوں کی دو سال کے عرصہ میں ہم نے کوئی مد نہیں کی۔بلکہ پارٹیشن سے کچھ عرصہ پہلے کی بعض رقمیں بھی انہیں بھجوائی نہیں گئیں۔اگر اس عرصہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ اڑھائی یا پونے تین سال کا عرصہ بن جاتا ہے۔جہاں تک ہمت سے بیٹھے رہنے کا سوال ہے، اس میں یہ دونوں برابر ہیں۔دونوں ہمت سے بیٹھے رہے اور تنگی ترشی سے گزارہ کرتے رہے۔لیکن جہاں تک تبلیغ کو فورا سنبھال لینے کا سوال ہے، اس میں کرم الہی صاحب ظفر مقدم ہیں۔کیونکہ ملک عطاء الرحمن صاحب جو لاہور کے ہی باشندے ہیں، ایک لمبا عرصہ کے بعد تبلیغ کے کام کو سنبھال سکے۔اب تو انہوں نے بھی جلسے کرنے شروع کر دیتے ہیں اور تبلیغ کو کچھ ڈاک کے ذریعہ وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ لڑ پچر بھی فرانسیسی زبان میں شائع کرنے لگے ہیں۔مگر یہ موجودہ چھ مہینے کی بات ہے۔اس سے پہلے وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ہی کوشش کرتے رہے۔لیکن کرم الہی صاحب ظفر نے ابتدائی چھ مہینے کے اندر اندر ایسی صورت پیدا کر لی کہ جس کی وجہ سے وہ اپنی تبلیغ کو وسیع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔انہوں نے میری ایک کتاب کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ کیا اور اسے ملک میں شائع کیا۔اور اب اسلامی اصول کی فلاسفی کا ترجمہ کر کے انہوں نے شائع کیا ہے۔اور یہ ساری کمائی انہوں نے خود محنت کر کے کی ہے۔اور بعض دفعہ تو ایسے رنگ میں کمائی کی 91