تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 89
ریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1949ء پس مت سمجھو کہ عزم کوئی معمولی چیز ہے۔( یہاں تین فقرات Misprinting کی وجہ۔باوجود ہر ممکن کوشش کے سمجھ نہیں آسکے۔ناقل ) وہ شخص جو طاقت تو رکھتا ہے مگر پھر بھاگنے کا خیال اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے، میں اسے کہتا ہوں ٹھہر اور صبر کر۔تیرے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کے کھلنے والا ہے۔بسا اوقات خدا خود چل کر آرہا ہوتا ہے اور وہ دروازہ کی کنڈی کھول رہا ہوتا ہے کہ تو منہ پھیر کر چلا جاتا ہے۔اور اس طرح خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ کے لئے دور چلا جاتا ہے۔اور ساری چیزیں ہزاروں نہیں ، لاکھوں دلائل سے ہم ثابت کر سکتے ہیں۔آدم سے لے کر اب تک ایک ایک بات ہو چکی ہے لیکن اس مادی دنیا کے اثر کے نیچے ہزاروں ہزار بلکہ اربوں ارب ایسے لوگ ہیں، جو اس رستہ پر چلنے سے گھبراتے ہیں۔کاش وہ اپنے گردو پیش کو نہ دیکھیں بلکہ پیچھے کی طرف دیکھیں۔وہ اس دنیا کی طرف دیکھیں، جو پیچھے گزر چکی ہے۔اس دنیا کی طرف نہ دیکھیں، جس کی اصلاح اور درستی کے لیے وہ کھڑے کئے گئے ہیں۔کیا ہی بد قسمت وہ انسان ہے کہ جس کی اصلاح کے لئے اسے بھیجا جائے ، اسی کے مرض میں وہ خود بھی گرفتار ہو جائے۔کتنا بد قسمت وہ سپاہی ہے، جو چور کو پکڑنے کے لئے بھیجا جائے اور خود اس کے ساتھ مل کر چوری کرنے لگ جائے۔جو شخص ، اس وقت مادیات میں مبتلا ہوتا ہے، وہ اس مادی اثر کے نتیجہ میں ہوتا ہے، جو اس وقت دنیا میں پایا جاتا ہے۔لیکن اس مادی اثر کو مٹانے کے لئے ہی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا گیا تھا۔پھر ہم سے زیادہ بدنصیب اور کون ہوگا کہ خدا نے تو ہمیں اس لئے بھیجا کہ ہم دین کے چوروں اور باغیوں کو پکڑ کر اس کے سامنے لائیں اور ہم ان کے آرام اور ترقی کو دیکھ کر خود بھی انہی چوروں اور باغیوں میں شامل ہو جائیں۔پس اپنے اندر عزم پیدا کرو اور سوچو کہ ہمیں کیوں بھیجا گیا ہے؟ ہمیں انہی چیزوں کو دیکھنے کے لئے بھیجا گیا ہے، جن کو دیکھ کر تمہارے دلوں میں لالچ پیدا ہوتی ہے۔ہمیں انہی چیزوں کو ہٹانے کے لیے بھیجا گیا ہے، جن کو دیکھ کر تمہارے دلوں میں ان کے پیچھے چلنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔تم سمجھو یا نہ سمجھو، یہ خدا کا کام ہے اور بہر حال ہو کر رہے گا۔اگر تم یہ کام نہیں کرو گئے تو خدا اور لوگ کھڑے کر دے گا ، جو اس کام کو سرانجام دیں گے۔یہ نظام بدلا جائے گا اور ضرور بدلا جائے گا۔امریکہ اور روس اور انگلستان کے مادی لیڈر اور اسی طرح کے اور صنادید، جو اس وقت ساری دنیا پر چھائے ہوئے ہیں، جو دنیا کے من مستقبل پر مادی اسباب سے قبضہ جمانے کی فکر میں ہیں، یہ مٹائے جائیں گئے ، یہ تباہ کیے جائیں گئے ، یہ بر باد کئے جائیں گے۔اور پھر دنیا اس پرانے طریق پر لائی جائے گی، جو آج سے تیرہ سو سال پہلے جاری تھا۔بلکہ خودان 89