تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 76

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 فروری 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اس کے متعلق وہ سوالات کی بوچھاڑ کر دے گا اور جو بار بار سامنے آتی رہے گی، اس کے متعلق وہ کبھی سوالات نہیں کرے گا۔کیونکہ بار بار سامنے آنے سے دریافت کرنے کی حس ہی ماری جاتی ہے اور انسان یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ مجھے اس کا علم ہے۔حالانکہ اسے علم نہیں ہوتا۔چنانچہ تم کسی سے پوچھ کر دیکھ لو کہ سچ کیوں بولنا چاہیے؟ وہ کبھی تم کو اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکے گا۔تم اپنے محلہ میں ہی کسی دن لوگوں سے دریافت کر کے معلوم کر سکتے ہو کہ آیا وہ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں یا نہیں۔جب تم کسی سے پوچھو گے کہ سچ بولنا چاہئے یا نہیں ؟ تو وہ کہے گا کہ ضرور سچ بولنا چاہئے۔مگر جب پوچھا جائے گا کہ بیچ کیوں بولنا چاہیے؟ تو وہ ہنس کر کہہ دے گا کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بیچ کا لفظ بار بار سن کر لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ یہ چیز کسی دلیل کی محتاج نہیں۔حالانکہ یہ بھی ویسی ہی دلیل کی محتاج ہے جیسے اور باتیں دلیل کی محتاج ہیں تو لوگ سچ کی تعریف سے بھی واقف نہیں ہوتے ، وہ سچ کی ضرورت سے بھی واقف نہیں ہوتے ، وہ سچ کے فوائد سے بھی واقف نہیں ہوتے ، وہ سچ کو چھوڑنے اور جھوٹ بولنے کے نقصانات سے بھی واقف نہیں ہوتے ،مگر جب ان سے سچ کے بارہ میں پوچھا جائے تو کہہ دیں گے کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدیت کی صداقت کا کیا ثبوت ہے؟ میں نے حضرت خلیفہ اول کو دیکھا کہ آپ سے جب بھی کوئی شخص یہ سوال کرتا ہے۔آپ ہمیشہ اسے یہ جواب دیا کرتے کہ تم نے دنیا میں کسی سچائی کو قبول کیا ہوا ہے یا نہیں ؟ اگر کیا ہوا ہے تو جس دلیل کی بنا پر تم نے اس سچائی کو قبول کیا ہے، وہی دلیل احمدیت کی صداقت کا ثبوت ہے۔اس کے جواب میں پوچھنے والا بسا اوقات یا تو ہنس کر خاموش ہو جاتا یا جو دلیل پیش کرتا ، اسی سے آپ اس کے سامنے احمدیت کی صداقت پیش فرما دیتے۔میرا بھی یہی طریق ہے اور میں نے اپنے تجربہ میں اسے بہت مفید پایا ہے۔چنانچہ مجھ سے بھی جب کبھی کوئی شخص یہ سوال کرتا ہے کہ احمدیت کی صداقت کا کیا ثبوت ہے؟ تو میں اسے یہی کہا کرتا ہوں کہ تم پہلے یہ بتاؤ کہتم محمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کیوں مانتے ہو اور کن دلائل سے آپ کی صداقت کے قائل ہو ؟ جو دلائل رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت کے تمہارے پاس ہیں۔وہی دلائل حضرت مسیح موعود کے میں پیش کرنے کیلئے تیار ہوں۔اس کے جواب میں کئی لوگ تو خاموش ہو جاتے ہیں اور کئی کہہ دیتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت کے دلائل ہم کیا بتا ئیں وہ تو ظاہر ہی ہیں۔پھر جب ان کے اس جواب پر جرح کی جاتی ہے تو صاف کھل جاتا ہے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کیوں سچا سمجھتے ہیں؟ میرے پاس آج تک اس قسم کے جتنے لوگ آئے 76