تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 498

اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم از عراق آورده شود مارگزیدہ مردہ شود۔جنگ نہ معلوم کب ختم ہو۔پھر اگر جنگ ختم ہو جائے اور ہماری تیاری ابھی نامکمل ہو تو پیشتر اس کے کہ ہم کوئی نئی عمارت کھڑی کریں، کفر اس کی جگہ ایک اور عمارت کھڑی کر دے گا۔اول تو پرانی عمارت کو توڑنا ہی آسان کام نہیں۔تین، چار سو سال سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو سیاسی اور صنعتی اور اقتصادی میدانوں میں شکست دے کر ان کو اتنا کمزور کر دیا ہے اور عیسائیت دنیا پر اس قدر غالب آچکی ہے، نہ صرف مذہب کے لحاظ سے بلکہ تمدن اور سیاست اور اقتصاد کے لحاظ سے بھی، کہ کفر کی مضبوط اور پرانی عمارت کو توڑنا، ہمارے لئے کوئی آسان بات نہیں۔پھر ہمارا کام صرف یہی نہیں کہ ہم کفر کی عمارت کو توڑ دیں۔بلکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس کی جگہ اسلام کی بلند و بالا عمارت کو اپنی پوری شان اور عظمت کے ساتھ کھڑا کریں۔اگر جنگ کے بعد جبکہ پرانی عمارت الہی ہاتھوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہوگی ، ہم نے جلد سے جلد اسلام کی عمارت کھڑی نہ کی تو دشمن اس وقفہ سے فائدہ اٹھا کر پھر کفر کی ایک عمارت کھڑی کر دے گا۔اور پھر ہمار از ور اس عمارت کو توڑنے پر صرف ہونے لگ جائے گا اور اسلام کی عمارت کو ازسرنو تعمیر کرنے کا کام اور زیادہ التوا میں پڑ جائے گا۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عزم مصمم کو لے کر کھڑے ہو جائیں کہ ہم کفر کی قائم کردہ عمارت کو منہدم کر کے رکھ دیں گے، ہم اسلام کی مضبوط ترین عمارت دوبارہ دنیا میں کھڑی کریں گے اور اس غرض کے لئے ہمیں جس قربانی سے بھی کام کا لینا پڑا، اس سے دریغ نہیں کریں گے۔اگر جانی قربانی کا سوال آیا تو ہم اپنی جان قربان کر دیں گے۔اگر مالی قربانی کا سوال آیا تو ہم اپنا مال قربان کر دیں گے۔اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کریں گے کہ ہم پر اور ہمارے عیال پر کیا گزررہی ہے؟ مگر چونکہ جماعت کے تمام افراد میں یکساں جوش اور اخلاص نہیں ہوتا بلکہ کوئی اپنے اخلاص کے لحاظ سے اول درجہ کے ہوتے ہیں تو کوئی دوسرے درجہ کے اور کوئی تیسرے درجہ کے ، اس لئے ضروری ہے کہ جماعت کے ہر فرد پر جانی اور مالی قربانی کی اہمیت کو پوری طرح واضح کیا جائے اور جب اکثریت اپنے اندر ایک تغیر پیدا کرلے تو ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کرے۔ہر شخص جماعت کے ست اور غافل لوگوں کے پاس جائے اور خودا سے کہے، اے میرے بھائی ! اسلام پر ایک نازک وقت آیا ہوا ہے۔ہمیں تو اس غرض کے لئے غیر سے بھی بھیک مانگنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے مگر تم تو ہمارے بھائی ہو تم سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں ؟ تم چندہ میں کوتاہی کرتے ہو تم مالی مطالبات میں دلیری سے حصہ نہیں لیتے ، جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ سلسلہ کے کاموں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔498