تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 497
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از تقریر فرموده 09 اپریل 1944ء در حقیقت بلند کاموں کی سرانجام دہی کے لئے ایک مستقل عزم اور ارادہ کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اور مستقل ارادہ اور عزم کے لئے ایسے آدمیوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے، جو اپنے دلوں میں اخلاص اور ایمان رکھتے ہوں۔اگر ایسے آدمی میسر آجائیں تو پھر روپیہ کی بھی ضرورت نہیں رہتی ، اخلاص خود بخود کام کے رستے تلاش کر لیا کرتا ہے۔یہی وہ بات ہے، جو تحریک جدید کے شروع میں ، میں نے کہی کہ اس تحریک کی بنیاد آدمیوں پر ہے، روپیہ پر نہیں۔روپیہ اگر لیا جاتا ہے تو اس لئے کہ درمیانی وقفہ میں اس روپیہ سے کام لیا جا سکے۔ورنہ در حقیقت ہمیں ضرورت ان اخلاص و ایمان رکھنے والے مبلغین کی ہے، جو دنیا میں نکل جائیں اور خدائے قدوس کا نام بلند کرنے کے لئے اپنی تمام عمریں صرف کر دیں۔یہ وہ مبلغ ہیں، جن کی ہمیں ضرورت ہے اور یہی وہ مبلغ ہیں، جو صحیح رنگ میں اسلام کے سپاہی کہلا سکتے ہیں“۔33 در حقیقت تبلیغ کا سوال ایک مستقل عزم اور ارادہ کے بغیر حل ہی نہیں ہوسکتا۔ایسا مستقل عزم، جو ہر قسم کی روکوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا دے اور ہر قربانی خواہ وہ کتنی بڑی ہو، انسان کو آسان اور سہل نظر آنے لگے۔لیکن جب تک یہ وقت نہیں آتا، ہماری جماعت کے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ چھوٹے پیمانہ پر اپنی جان کو قربان کرنے کے لئے تیار رہیں، اپنے مال کو قربان کرنے کے لئے تیار رہیں۔تا کہ جن کاموں کی بنیا درکھ دی گئی ہے، ان کو ہم زیادہ سے زیادہ وسیع کرسکیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغ کے لئے ہمیں موجودہ تعداد سے بہت زیادہ مبلغین کی ضرورت ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ روپیہ کا موجود ہونا بھی اپنی ذات میں نہایت ضروری ہے۔کیونکہ روپیہ سے تبلیغ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔اگر ہم صرف پانچ ہزار مبلغ رکھیں تو وہ ایک وقت میں پانچ ہزار افراد کوہی تبلیغ کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم کافی تعداد میں ان کولٹر بچر اور اشتہارات وغیرہ مہیا کر دیں تو ایک ایک آدمی کی آواز ملک کے لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔پس تبلیغ کو وسیع کرنے اور دنیا کے اکثر حصوں میں اسلام اور احمدیت کے نام کو پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس روپیہ ہو اور ضروری ہے کہ ہمارے پاس آدمی ہوں تا کہ ہم ایک وقت میں ان دونوں چیزوں سے کام لے کر کفر کے مقابلہ کے لئے نکل سکیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں سے کئی مخلصین ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں۔لیکن ان کی تیاری اور پھر ان کا بیرونی ممالک میں تبلیغ کے لئے بھجوایا جانا ، ابھی دور کی بات ہے۔میں تو جب ان حالات کو دیکھتا ہوں تو مجھے بعض دفعہ یہ شل یاد آجاتی ہے " کتنا تریاق 497