تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 82

خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم کے فرائض کو ادا نہیں کیا۔بلکہ جو شخص بھی چندہ دیتایا چندہ ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے، وہ اپنی خوشی سے یہ ذمہ داری اپنے اوپر عائد کرتا ہے اور اس لئے کرتا ہے تا نوافل کے ثواب میں وہ شریک ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان نوافل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ہر حرکت جو وہ خدا تعالیٰ کی طرف کرتا ہے، اس کے جواب میں خدا اس سے زیادہ حرکت کرتا ہے۔اگر وہ ایک قدم چلتا ہے تو خدا دو قدم چل کر آتا ہے اور اگر وہ تیز چلتا ہے تو خدا دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا اس طرح بندہ خدا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ خدا اس کے ہاتھ بن جاتا ہے، جن سے وہ پکڑتا ہے اور خدا اس کی آنکھیں بن جاتا ہے، جن سے وہ دیکھتا ہے اور خدا اس کے پاؤں بن جاتا ہے، جن سے وہ چلتا ہے۔گویا ایسے بندے اور خدا کے درمیان ایسا اتصال اور اتحاد پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کی خواہشات ، خدا تعالیٰ کی خواہشات ہو جاتی ہیں۔کوئی بندہ، خدا نہیں بن سکتا۔بندہ بندہ ہی ہے اور خدا خدا ہی۔مگر الوہیت کی چادر اوڑھنے کا ذریعہ یہ ہے کہ انسان خدا کے ساتھ متصل ہو جائے اور اس کی روح خدا کی صفات میں ضم ہو جائے۔حتی کہ اس کے ارادے وہی ہو جائیں، جو خدا کے ارادے ہیں، اس کی خواہشات وہی ہو جائیں، جو خدا کی خواہشات ہیں اور اس کے مقاصد وہی ہو جائیں، جو خدا کے مقاصد ہیں۔تب بندہ ایک رنگ میں خدا ہی بن جاتا ہے اور جو کچھ وہ چاہتا ہے ، وہی کچھ ہو جاتا ہے۔نادان لوگ اسے دیکھ کر بعض دفعہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ وہ بندہ اپنے اندر خدائی صفات رکھتا ہے۔حالانکہ بات یہ نہیں ہوتی کہ اس کے اندر خدائی صفات آجاتی ہیں بلکہ بات یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنی مرضی کو قربان کر کے خدا کی مرضی کو اختیار کیا ہوا ہوتا ہے۔اور گو بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ، وہی ہو جاتا ہے۔مگر دراصل وہ اپنی ذات میں کچھ چاہتا ہی نہیں۔وہ وہی کچھ چاہتا ہے، جو خدا چاہتا ہے اور چونکہ جو کچھ وہ چاہتا ہے ، وہ درحقیقت خدا کا ارادہ اور اس کا منشا ہوتا ہے۔اس لئے لوگ یہ مجھتے ہیں کہ اس کی بات پوری ہوئی۔حالانکہ اس کی بات نہیں بلکہ خدا کی بات پوری ہوتی ہے۔لوگ تو صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ فلاں شخص کی زبان سے بات نکلی اور وہ پوری ہوگی۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی زبان میں بڑی تاثیر ہے۔حالانکہ اس کی زبان میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی بلکہ تاثیر اس لئے ہوتی ہے کہ اس نے اپنی زبان کاٹ دی ہوتی ہے، اس نے اپنے وجود کو مٹا دیا ہوتا ہے اور اس کی اپنی کوئی خواہش رہتی ہی نہیں۔اس لئے جب وہ بولتا ہے تو اس کی زبان نہیں بولتی بلکہ خدا کی زبان بولتی ہے، اور جب اس کی بات پوری ہوتی ہے تو اس کی بات پوری نہیں ہوتی بلکہ خدا کی بات پوری ہوتی ہے۔82