تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 83
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941ء یہی مطلب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس حدیث کا ہے کہ اس کے ہاتھ ، خدا کے ہاتھ ہو جاتے ہیں۔یعنی وہ اپنے ہاتھوں کو معطل کر دیتا ہے اور انہیں ایک آلہ کی طرح خدا کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔جس طرح قلم نہیں لکھتی بلکہ ہاتھ لکھتا ہے۔اس طرح جو کچھ اس کے ہاتھ کرتے ہیں ، وہ اس ہاتھ کے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ کرتے ہیں۔اس طرح اس کے پاؤں، خدا کے پاؤں ہو جاتے ہیں، اس کی آنکھیں ، خدا کی آنکھیں ہو جاتی ہیں اور اس کی زبان ، خدا کی زبان ہو جاتی ہے۔ایسا انسان جب کس ملک میں جاتا ہے تو وہاں خدا تعالی کی برکتیں نازل ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔اور جب بات کرتا ہے تو زمین و آسمان میں تغیر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور جب ہاتھ اُٹھاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی آفاق میں تغیر رونما ہو نے لگ جاتا ہے۔اس لئے کہ اس نے اپنے ہاتھ معطل کئے ہوئے ہوتے ہیں، اس نے اپنے پاؤں معطل کئے ہوئے ہوتے ہیں اور اس نے اپنی زبان معطل کی ہوئی ہوتی ہے اور جو کچھ اس سے صادر ہوتا ہے ، وہی خدا تعالیٰ کا منشاء اور اسکا ارادہ ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر انسان دنیا کے مصائب اور ابتلاء سے اس رنگ میں محفوظ ہو جاتا ہے کہ وہ اسے کچل نہیں سکتے۔یہ نہیں کہ ایسے انسان پر مصبتیں نہیں آتیں یا بیماریاں نہیں آتیں یا دشمن اسے تکلیفیں نہیں پہنچاتے یا حکومتیں اسے گرفتار یا قید نہیں کر سکتیں۔یہ سب کچھ ہوتا ہے بیماریاں بھی آتی ہیں، سبتیں بھی آتی ہیں، دشمن بھی ستاتے ہیں اور حکومتیں بھی گرفتار کرتی اور قید کرتی ہیں۔چنانچہ دیکھ لو حضرت عیسی، اللہ تعالیٰ کے نبی تھے مگر گورنمنٹ نے اُن کو گرفتار کیا، قید میں رکھا اور پھر پھانسی پر لٹکا دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے رسول تھے مگر فرعون کے مقابلہ میں انہیں اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب اور رسول اور تمام نبیوں کے سردار تھے مگر آپ کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔اس طرح آپ کو مارا گیا، آپ کو پیٹا گیا، آپ کو زخم بھی لگے، آپ کے دانت بھی شہید ہوئے اور آپ پر ایسا وقت بھی آیا کہ آپ ایک گڑھے میں گر گئے اور صحابہ کی لاشیں آپ پر آپڑیں اور کفار نے یہ خیال کر کے خوشیاں منائیں کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔پھر آپ بیمار بھی ہوئے اور بعض دفعہ لمبے عرصے تک بیمار رہے۔جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔اسی طرح وفات کے وقت آپ کو اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جان کنی کی تکلیف کو میں نے نہیں دیکھا۔میں یہی سمجھتی تھی کہ جسے جان کنی کے وقت شدید تکلیف ہو اس کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔مگر جب میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جان کنی کی تکلیف دیکھی تو میں نے اپنے اس خیال سے توبہ کی اور میں نے سمجھا کہ جان کنی کی تکلیف کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔83