تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 784
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 مئی 1947ء شاگرد آتے تھے ، آپ انہیں ایک جھوٹی دے دیتے کہ مانگ کر کھاؤ اور بدھ مذہب کی تبلیغ کرو۔نہ گزارے کی شرط نہ تنخواہ کی شرط مانگو اور تبلیغ کرو۔ان کی زندگی میں ایک عجیب مثال پائی جاتی ہے۔گوتم بدھ کے گھر جوانی میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔چونکہ وہ دنیاوی کاموں سے بہت دور رہتے تھے۔والدین نے ان کی بچپن میں ہی شادی کر دی تھی۔لڑکے کی پیدائش کے بعد انہوں نے گھر بار چھوڑ دیا اور عبادات کرنے کے لئے جنگلوں کے طرف چلے گئے اور جنگلوں میں جا کر ہی آپ کو الہام ہونا شروع ہوا۔گوتم بدھ کا باپ اس علاقے کا بادشاہ تھا اور ان کی حکومت کا یہ قانون تھا کہ حکومت باپ کے بعد بیٹے کوملتی تھی ، پوتے کو نہیں۔اب گوتم بدھ تو بادشاہ بننے سے انکار کر چکے تھے اور پوتا تخت کا وارث نہیں ہو سکتا تھا۔گو تم بدھ کے باپ نے یہ تجویز کی کہ اپنے پوتے کو فقیروں کا لباس پہنایا اور اس سے کہا کہ تم جا کر گوتم بدھ سے راج کی بھیک مانگو۔اس کا مطلب یہ تھا کہ گوتم بدھ اسے بادشاہت پر قابض ہونے کی اجازت دے دے گا تو میں اپنے پوتے کو تخت پر بٹھا دوں گا۔چنانچہ گوتم بدھ کا بیٹا ان کے پاس گیا اور کہا میں آپ سے راج کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔گوتم بدھ کے نزدیک تو اصل راج وہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے حاصل ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا تم سچے دل سے بھیک مانگنے آئے ہو؟ اس نے کہا ہاں سچے دل سے بھیک مانگنے آیا ہوں۔انہوں نے نائی کو بلوایا اور اس کے سر کے بال منڈوا کر اسے فقیری کا خرقہ پہنا دیا اور کہا یہی راجہ ہمارے پاس ہے جاؤ اور اس راج کی تبلیغ کرو۔گوتم بدھ کے باپ کو جب معلوم ہوا تو اسے غش پر غش آنے لگے۔کیونکہ اس کے معنی یہ تھے کہ حکومت اس کے خاندان میں سے ہمیشہ کے لئے نکل گئی۔آخر باپ نے گوتم بدھ کو بلایا اور انہیں کہا کہ خاندان کو تو تم نے تباہ کر دیا لیکن کیا تم سمجھتے ہو کہ تم نے انصاف کیا ہے کہ ایک نابالغ لڑکے کو اس کے متکفل کی اجازت کے بغیر تم نے اس کے حق سے محروم کر دیا؟ آئندہ کے لئے عہد کرو کہ تم کسی نابالغ کو بھکشو نہیں بناؤ گے۔چنانچہ گوتم بدھ نے یہ عہد کیا اور آئندہ کے لئے حکم دے دیا کہ کسی نابالغ کو بھکشو نہ بنایا جائے۔چنانچہ اب بدھوں میں نابالغ کو بھکشو نہیں بناتے۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے کہا۔جھولی لو اور مختلف ممالک میں پھیل جاؤ اور صرف آج کی روٹی کا فکر کرو۔کل کی روٹی تمہیں کل مل جائے گی۔اسی طرح رسول کریم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تم جہاں جاؤ ، اس علاقے کے لوگوں پر تین دن تک تمہاری روٹی کا حق ہے۔اس لئے دین کی تبلیغ کرتے ہوئے روٹی کے لئے پریشان نہ ہو۔جہاں جاؤ، اس علاقہ کے لوگوں سے لے لو۔پس اشاعت مذہب کے لئے صحیح طریق یہی ہے کہ بغیر کسی معاوضہ کے دینی کام کئے جائیں۔مگر اس زمانہ کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ہم قدم بقدم چل رہے ہیں۔پہلے ہمارے پاس کوئی مبلغ نہ تھا، 869