تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 785 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 785

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 مئی 1947ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم پھر ہم نے تنخواہ دار مبلغ رکھے اور پھر وقف زندگی کے مطالبہ کے ماتحت تنخواہ کا سوال ہی اڑا دیا۔اب آہستہ آہستہ وہ زمانہ بھی آجائے گا کہ ہماری جماعت کا ایک حصہ جھولیاں ڈال کر تبلیغ اسلام کے لئے نکل جائے گا اور خدا کے نام پر اگر کسی نے کچھ کھانے کو دیا تو کھالیں گے اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام اکناف عالم میں پھیلاتے چلے جائیں گے۔ہر گروہ اپنے اپنے وقت پر آگے آئے گا اور دین کا کام کرے گا۔اسی سلسلہ میں اب زمینداروں کے لئے موقعہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ آگے آئیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے رستہ کھول دیا ہے۔ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے، جو زمیندارہ کام جانتے ہوں اور سخت سے سخت کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ممکن ہے ہمیں ان کو ایسی جگہ بھیجنا پڑے، جہاں گھنے جنگل ہوں اور ان جنگلات میں درندے وغیرہ ہوں۔اور ممکن ہے کہ سندھ کی زمینوں پر بھی ان سے کام لیا جائے۔کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ سلسلہ کی زمینوں پر جہاں باقی کارندے واقف زندگی ہوں، وہاں مزارع بھی واقفین ہی ہوں۔یعنی ہل چلانے والا بھی واقف زندگی ہو اور ہل چلوانے والا بھی واقف زندگی ہو اور نگرانی کرنے والا بھی واقف زندگی ہو۔اس کے علاوہ بھی ہمیں بعض جگہ فوری طور پر زمینداروں کی ضرورت ہے، جو ہر تکلیف برداشت کرنے کو تیار ہوں اور ایسا کام سوائے واقفین کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ہماری جماعت کے لوگوں میں ایڈونچرس روح ہونی چاہئے۔یعنی ہمت اور خطرہ والے کاموں کی خواہش ہونی چاہیے۔کیونکہ جس قوم میں مافوق العادت کام کرنے کی روح پیدا نہیں ہوتی ، وہ ترقی نہیں کر سکتی۔انگریزوں پر دوسری اقوام حسد کرتی ہیں کہ انہوں نے ہندوستان اور افریقہ کے ممالک پر قبضہ کر رکھا ہے۔لیکن آج سے تین چار سو سال قبل جبکہ نہ ریل تھی اور نہ ڈاک و تار کا کوئی انتظام تھا۔انگریز نوجوان اپنے گھروں سے نکلے اور انہوں نے غیر ملکوں میں جاکر ان کو آباد کیا۔وہاں کے باشندوں کو تہذیب سکھائی۔جن لوگوں نے یہ تکلیف اٹھائی، وہی اس قابل تھے کہ ان علاقوں پر حکومت کرتے لیکن وہ لوگ جو اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہے ، ان کو دوسری اقوام پر حکومت کرنے کا کیا حق ہے؟ ہماری جماعت بھی اگر ترقی کرنا چاہتی ہے تو اسے مافوق العادت کاموں کی طرف توجہ کرنی چاہیے، اس کے افراد میں سفروں کا شوق ہونا چاہیے، غیر ممالک میں جانے کا شوق ہونا چاہیے اور نئے نئے علوم اور نئے نئے پیشے سیکھنے کا شوق ہونا چاہیے۔میں جب فلسطین گیا تھا، اس وقت وہاں یہودیوں کی آبادی دس فی صدی تھی اور عیسائیوں کی آبادی بھی دس فی صدی تھی اور مسلمانوں کی آبادی اسی فی صدی تھی۔لیکن اسٹیشنوں پر میں نے دیکھا کہ سفر کرنے والوں میں اسی فی صدی یہودی تھے اور بیس فی صدی دوسری اقوام۔اس وقت ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ اس قوم میں ترقی کی امنگ شدت سے پیدا ہو رہی ہے اور اس 870