تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 783 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 783

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 مئی 1947ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم ان کو جو گزارے دیئے جائیں، ان کو انعام سمجھ کر کام کرتے چلے جائیں۔پس آج زمینداروں کے لئے موقعہ ہے کہ وہ سلسلہ کے لئے یا سلسلہ کے مفاد کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔میں یہ الفاظ یونہی نہیں بول رہا بلکہ ان میں ایک حکمت اور مصلحت ہے، جس کا ابھی اظہار مفید نہیں۔بہر حال زمینداروں کو چاہئے کہ وہ سلسلہ کے لئے یا سلسلہ کے مفاد کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں اور جہاں ہم ان کو بھیجیں ، وہاں جائیں اور جن حالات میں ہم ان کو رہنے کے لئے کہیں، ان حالات میں وہ رہیں۔اور جو فیصلے ان کے گزارہ کے لئے ہم کریں، وہ اس پر اپنی خندہ پیشانی سے کام کریں۔جس خندہ پیشانی سے ہمارے دوسرے واقفین آج کل کام کر رہے ہیں۔ہمارے مبلغوں میں بعض بی اے ہیں، بعض ایم اے ہیں، بعض وکیل ہیں اور بعض انٹرنس پاس ہیں۔ہم نے ان میں سے ہر ایک کے حالات کے مطابق ان کے گذارے مقرر کئے ہیں اور وہ گزارے نہایت غریبانہ ہیں۔اسی طرح زمینداروں میں سے جو لوگ اپنی زندگیاں وقف کریں گے ، ہم ان کو ایسی جگہوں پر کام کرنے کے لئے لگائیں گے، جو سلسلہ کے لئے مفید ہوں گی۔اور ان کا کام زمیندارہ ہی ہوگا لیکن یہ کہ ان کو کس جگہ کام کرنا ہوگا؟ یا کیسے کام کرنا ہوگا ؟ یہ باتیں بعد میں بتائی جائیں گی۔ہو سکتا ہے کہ کسی جگہ ہم ان کو گزارہ رقم کی صورت میں دے دیں اور کسی جگہ گذارہ غلے اور پیداوار کی صورت میں دے دیں۔مثلاً نصف پیدا وار سلسلہ کی اور نصف ان کی یا دو تہائی کا ان کی اور ایک تہائی سلسلہ کی یا اس سے کم و بیش کسی طریق سے۔یہ تفصیلات اس وقت بیان نہیں کی جا سکتیں اور نہ ہی ان کا بیان کرنا مفید ہے۔مختلف حالات میں مختلف جگہوں پر کام کرنا ہو گا اور اس میں غلط نہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔یہاں کوئی ملازمت کا سوال تو در پیش نہیں کہ بعد میں غلط نہی کا خطرہ ہو۔جو شخص زندگی وقف کرتا ہے، اسے اس سے کیا مطلب ہے کہ اسے زیادہ گزارہ ملتا ہے یا کم گزارہ ملتا ہے؟ اس نے تو اپنی جان اللہ تعالیٰ کے سپر د کر دی۔اسے اس بات کا کیا ڈر ہو سکتا ہے کہ میرے ساتھ کیسا سلوک ہوگا ؟ اور مجھے میرے کام کا کیا بدلہ ملے گا؟ اس کے کام کا بدلہ تو اسے اللہ تعالیٰ ہی دے گا اور وہ بھی اسی نیت سے زندگی پیش کرتا ہے کہ میرے کام کا بدلہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، مجھے بندوں سے بدلہ کی امید نہیں۔زیادہ گزارے یا کم گزارے کا خیال تو ملازمین کو ہوتا ہے، واقف زندگی کے لئے اس قسم کی کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔اگر ہمارے پاس زیادہ ہو گا تو ہم واقفین کو زیادہ دے دیں گے۔اگر کم ہو گا تو کم دیں گے اور اگر بالکل نہ ہو گا تو ہم ان کو کچھ بھی نہیں دیں گے۔اور ان سے کہہ دیں گے کہ مانگ کر کھاؤ اور سلسلہ کا کام کرو۔اور یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے انبیا کے زمانہ میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔گوتم بدھ کے زمانہ میں یہی طریق رائج تھا۔گوتم بدھ نے دیکھا کہ چندوں اور تنخواہوں سے تو کام نہیں بنتا۔ان کے پاس جو 868