تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 768
یک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 02 مئی 1947ء اللہ تعالی کی عطا کردہ تمام نعمتوں سے اس کا حصہ ادا کرنا ضروری ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 02 مئی 1947ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ حقیقی اسلام کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ انسان اپنی ساری طاقتوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی خدمت میں لگا دے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو ستی کی وجہ سے عام طور پر دینی خدمات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دین کی بعض قسم کی خدمات تو کر لیتے ہیں لیکن بعض قسم کی خدمات سے انہیں گریز ہوتا ہے۔جیسے کسی شاعر نے کہا ہے۔جاں طلبی مضائقہ نیست گر زر طلبی سخن دریس یعنی اگر جان مانگو تو مجھے اس کے دینے میں کوئی عذر نہیں لیکن اگر روپیہ مانگو تو اس کے دینے میں مجھے تامل ہے۔لیکن بعض طبائع ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہ روپیہ سے تو دین کی خدمت کرنے کو تیار ہوتی ہیں لیکن جسمانی خدمت سے گریز کرتی ہیں۔زندگی وقف کرنے کے معاملہ میں مجھے نوجوانوں کے رشتہ داروں کی طرف سے یہ شکایت آتی رہی ہے کہ فلاں نو جوان اچھی کمائی کر رہا ہے، اگر اسے کام سے ہٹا کر دین کی خدمت میں لگادیا گیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف چالیس، پچاس یا سور و پیہ ماہوار جو وہ سلسلہ کو دیا کرتا تھا، بند ہو جائے گا بلکہ اس کے گزارہ کے لئے مزید خرچ کرنا پڑے گا۔اس لئے بہتر ہے کہ اس کی بجائے کوئی دوسرا آدمی کام پر لگا دیا جائے۔یہ چندہ بھی دیتا رہے گا اور دین کی خدمت بھی کرتا رہے گا۔بظاہر یہ ایک خوشنما اور اچھی بات معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے شدید دنیا داری کی روح کام کر رہی ہوتی ہے۔اگر ایک شخص اچھی کمائی کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ایک حد تک اپنی قابلیت اغیار سے منوالی ہے اور اس کی قابلیت کے پیش نظر غیر بھی اس کو اچھا عہدہ دینے کے لئے تیار ہیں۔مگر سلسلہ کی ضروریات کو اگر دیکھا جائے تو اسے بھی ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔اور ہر قسم کی لیاقت رکھنے والے آدمیوں کی ضرورت 851