تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 769
خطبہ جمعہ فرمودہ 02 مئی 1947ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم ہے۔آخر ہر انسان ہر کام نہیں کر سکتا کوئی شخص صرف چیڑ اسی کا کام کرسکتا ہے، کوئی اچھا کلرک بن سکتا ہے، کوئی اچھا نگران بن سکتا ہے، کوئی اچھا افسر بن سکتا ہے۔ان تمام کاموں کے لئے مختلف لیاقت رکھنے والے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جس لیاقت کے آدمی کی ہمیں ضرورت پیش آئے ، اگر اس لیاقت کا آدمی ہمیں مل جائے تو ہمارا کام چل سکتا ہے۔گو اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ جب کوئی اچھی لیاقت کا آدمی کسی کام پر لگایا جائے گا تو سلسلہ کو اس آمد سے محروم ہونا پڑے گا، جو اس کی طرف سے آیا کرتی تھی۔اور یا پھر دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کسی نالائق آدمی کواعلیٰ کام پر لگا کر نقصان کا دروازہ کھول دیا جائے۔لیکن یہ غیر معمولی طریق ہے اور کوئی معقول آدمی اس طریق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔بہر حال اصل صورت یہی ہے کہ کس تجربہ کار اور قابل آدمی کے سپر د کام کیا جائے اور یہی صورت معقول اور قابل عمل ہے۔مگر اس طریق پر عمل کرنے سے لازمی طور پر ایسے شخص کی معقول آمد سے سلسلہ کو محروم ہونا پڑے گا۔کیونکہ عام طور پر لائق آدمی ہی زیادہ کماتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض نا قابل اور نالائق آدمی بھی کسی اچھی جگہ پر پہنچ جاتے ہیں۔لیکن یہ امر مستثنیات میں سے ہوتا ہے ورنہ عام قاعدہ یہی ہے کہ لائق آدمی ہی اچھی جگہ پر پہنچتے ہیں اور نالائق کا ترقی کرنا ایک اتفاقی امر ہوتا ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے، جیسے اتفاقاً کسی کو گر اپرا پونڈ مل جائے ، جس شخص کو اتفاقا گرا پڑا پونڈ مل جائے ، وہ اگر تمام کام کاج چھوڑ کر پونڈ ملنے کی امید پر بیٹھ جائے کہ فلاں دن جو مجھے پونڈ ملا تھا، اب بھی مل جائے گا تو ایسے شخص کو کون عقلمند کہے گا؟ پس گو نا قابل اور نالائق بھی بعض دفعہ ترقی کر جاتے ہیں لیکن عام قاعدہ یہی ہے کہ قابل آدمی اپنے فن میں مہارت حاصل کر لینے کی وجہ سے زیادہ آمد پیدا کر سکتا ہے اور اسے جب بھی اپنی جگہ سے ہلایا جائے گا، اس کی وجہ سے جو آمدن ہو رہی ہوگی ، وہ بند ہو جائے گی۔لیکن اگر اسے مفید وجود سمجھ کر نہ ہلایا جائے تو سلسلہ کونا قابل اور بے کار وجودوں سے کام لینا پڑے گا۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کام خراب ہو جائے گا۔یہ بات تو زندگی وقف کرنے والوں کے متعلق ہے۔لیکن ان کے علاوہ ہزاروں لاکھوں آدمی ہماری جماعت میں ایسے ہیں، جنہوں نے گو اپنی زندگیاں وقف نہیں کیں لیکن وہ ایسی جگہ پر ہیں کہ اگر وہ دینی کاموں میں حصہ لینا چاہیں تو حصہ لے سکتے ہیں۔مگر ان میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے، جو خیال کرتا ہے کہ جب ہم چندہ دے دیتے ہیں تو ہمیں دینی کاموں میں اپنے اوقات صرف کرنے کی ضرورت نہیں۔مگر اصل بات یہ ہے کہ ایسے لوگ سلسلہ کے کاموں کے لئے اپنے دلوں میں کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے، ان کا یہ خیال دیانت داری کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ در حقیقت وہ سلسلہ کی روحانی 852