تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 58
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پھر ریا اس پر اس قدر غالب ہے کہ معافی بھی نہیں مانگتا۔پس وہ متکبر ہے اور وہ جو تو فیق کے باوجود ادا نہیں کرتا، نا دہند ہے، اسے کسی نے مجبور نہیں کیا تھا کہ وہ اس تحریک میں اپنا وعدہ لکھوائے۔سوائے ایسی تحریک کے جیسے ایک مومن دوسرے مومن کو کرتا ہے۔پس اس تحریک میں شامل ہونا اس کی خوشی پر منحصر تھا اور جبکہ اس نے طوعی طور پر چندہ لکھوایا تو یہ نہایت ہی قابل شرم بات ہے کہ ایک انسان وعدہ تو اپنی مرضی اور خوشی سے کرے مگر اسے پورا نہ کرے۔پس میں ان تمام لوگوں کو جن کے ذمہ گزشتہ سالوں کے بقائے ہیں، توجہ دلا تا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے بقائے پورے کریں تا کہ ثواب کی جگہ انہیں عذاب نہ ملے۔اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے بقائے ہیں۔میرا خیال ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے بقائے تمہیں ہزار کے قریب ہوں گے اور یہ وہ بقائے ہیں جن کی ادائیگی کا دوستوں نے وعدہ کیا ہوا ہے۔پس اپنے وعدوں کو پورا کریں اور بقالوں کو جلد سے جلد صاف کریں۔وعدہ بڑی قیمتی چیز ہوتا ہے اور پھر مومن کا وعدہ تو اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے لیکن اگر کوئی شخص مومن کہلا کر بھی اپنا وعدہ پورا نہ کرے تو اس کا ایمان اسے کیا فائدہ دے سکتا ہے؟ وعدہ تو ایسی چیز ہے کہ بسا اوقات کا فر بھی اسے پورا کرنے کا فکر رکھتا ہے اور جبکہ کا فر بھی وعدہ کو پورا کیا کرتا ہے تو مومن کو خیال رکھنا چاہئے کہ اس کا قدم کم سے کم کافر سے نیچے تو نہ پڑے۔عرب میں وعدوں کا بہت خیال رکھا جاتا تھا، اس زمانہ میں تو مسلمان کہلانے والے چاہتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو دوسروں کا نقصان ہو۔انہیں نہ اپنے وعدوں کا خیال ہوتا ہے، نہ لین دین کا احساس ہوتا ہے۔مگر اہل عرب میں وعدوں کو پورا کرنے کا اتنا احساس تھا کہ باوجود کفر کے وہ اپنے وعدوں کو پورا کر کے دکھا دیتے تھے۔چنانچہ مکہ میں ایک دفعہ خبر پہنچی کہ ایرانی فوجوں سے رومی فوج شکست کھا گئی ہے۔مکہ والے چونکہ مشرک تھے اور ایران والے بھی مشرک تھے اس لئے مکہ کے بت پرست اس سے بہت خوش ہوئے۔مشرک تو عیسائی بھی تھے مگر وہ چونکہ مسلم اہل کتاب تھے اس لئے مکہ والوں نے شور مچادیا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) جو عیسی کو مانتا ہے ، اس کا تعلق عیسائیوں سے ہے اور ہمارا تعلق ایرانیوں سے ہے۔اس جنگ میں چونکہ ایرانیوں کی فتح ہوئی ہے اور رومی شکست کھا گئے ہیں، اس لئے یہ ہمارے لئے ایک نیک فال ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بھی فتح پائیں گے اور مسلمان ہمارے مقابلہ میں شکست کھا جائیں گے۔غرض مکہ میں ایک شور برپا ہو گیا کہ چونکہ ایرانیوں نے رومیوں کو شکست دے دی ہے اس لئے اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کو شکست دے دی ہے۔جب کوئی رو چلتی ہے تو چلتی چلی جاتی ہے اور طبائع خود بخود اس سے متاثر ہوتی جاتی ہیں۔یہ رو 58