تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 59

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1940ء بھی ایسی چلی کہ ہر جگہ اس کا تذکرہ رہنے لگا۔مسلمانوں نے اس پر بخشیں کرنی شروع کر دیں کوئی کہتا کہ فال کوئی چیز ہی نہیں ہوتی کوئی کہتا کہ یہ محض وہم اور خیال ہے اور کوئی یہ کہتا کہ فال لینے کا یہ طریق غلط ہے۔آخر اللہ تعالی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر وحی نازل کی کہ رومیوں کو گواب شکست ہو چکی ہے مگر بضع سنین میں وہ پھر غالب آجائیں گے اور ایرانی ان کے مقابلہ میں شکست کھا جائیں گے اور یہ خبر تم کو ایسے وقت میں پہنچے گی جب تم بھی ان دشمنوں کو ایک شکست دے چکے ہو گے۔چنانچہ رومیوں کی فتح کی خبر مسلمانوں کو بدر کے موقع پر پہنچی۔جب کفار کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست فاش کھا چکا تھا۔اللہ تعالی کی طرف سے جب یہ وحی نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر، ابی بن خلف جو مکہ کا رئیس تھا، اس کے پاس پہنچے اور فرمانے لگے کہ کچھ تم نے سنا کہ ہمارے آقا کو الہام ہوا ہے کہ بضع سنین میں رومی ایرانیوں پر غالب آجائیں گے؟ اس نے کہا اگر یہ بات ہے تو آؤ اور کوئی شرط باندھ لو! حضرت ابو بکر نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ دس دس اونٹوں کی شرط ہو گئی۔بضع سنین کے معنی تین سے دس سال کے ہوتے ہیں یعنی تین سال سے لے کر نویں سال کے اختتام تک مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا خیال نہ رہا اور انہوں نے تین سال کی مدت مقرر کر دی اور کہا کہ اگر تین سال میں ایرانیوں نے رومیوں کے ہاتھوں شکست نہ کھائی تو میں تمہیں دس اونٹ دوں گا اور اگر وہ شکست کھا گئے تو تمہیں دس اونٹ دینے ضروری ہوں گے۔اس کے بعد وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! میں تو آپ کی وحی پر شرط باندھ آیا ہوں اور کہہ آیا ہوں کہ اگر ایرانیوں کو اب کی دفعہ شکست نہ ہوئی تو میں دس اونٹ دوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا مدت کیا مقرر کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ تین سال۔آپ نے فرمایا کہ بضع سنین تو تین سے نو سال تک ہوتے ہیں یہ آپ نے غلطی کی جو تین سال کی مدت مقرر کر دی۔پھر آپ نے فرمایا اچھا اب غلطی کی تلافی اس طرح کرو کہ ابی بن خلف کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم شرط اور زمانہ دونوں بڑھا دیتے ہیں۔شرط سوسو اونٹ رکھ لو اور مدت نو سال کے اختتام تک بڑھا دو۔چنانچہ وہ پھر ابی بن خلف کے پاس گئے اور یہی بات اس کے سامنے پیش کر دی اسے چونکہ یقین تھا کہ ایرانیوں کی طاقت بہت بڑی ہے اور ناممکن ہے کہ رومی انہیں شکست دے سکیں۔اس لئے اس نے فورا خوشی سے اس بات کو قبول کر لیا اور کہا کہ بے شک زمانہ نو سال تک بڑھالو اور شرط سوسو اونٹ کی رکھ لو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رومیوں کی حالات میں تبدیلی پیدا کرنی شروع کر دی اور نو سال کے اندر اندر ان میں ایک با ہمت بادشاہ پیدا ہوا اور اس نے اپنے ملک کو متحد کر کے ایرانیوں پر ایسا شدید حملہ کیا کہ ان کے لئے بھاگنے 59