تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 57

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1940ء جب یہ فہرستیں کتابی صورت میں شائع ہو جائیں گی تو اس وقت ہر ایک کے لئے تمام فہرست کا پڑھنا سخت مشکل ہو گا لیکن یہ بات آسانی سے دیکھی جاسکے گی کہ کون سی جماعت چندوں میں بڑھ کر رہی اور کون سی جماعت پیچھے رہی؟ اور چونکہ اس بات کا معلوم کرنا آسان ہو گا اس لئے جو جماعتیں چندہ میں بڑھ کر رہیں گی ان کے لئے سینکڑوں سال دعائیں ہوتی چلی جائیں گی اور خدا سے جو انہیں ثواب ملے گا وہ الگ ہوگا۔گویا خدا کے ثواب کے بعد ایسی جماعتیں بندوں کی دعاؤں سے بھی سینکڑوں ہزاروں سال تک حصہ لیتی چلی جائیں گی۔اس فہرست میں کم و بیش پانچ ہزار نام ہوں گے اور پانچ ہزار نام پڑھنا آسان کام نہیں لیکن اتنی بات ہر کوئی پڑھ لے گا کہ فلاں فلاں جماعتیں اس چندہ میں اول رہی ہیں۔پس جماعتی لحاظ سے بھی کوشش کرنی چاہئے کہ افراد اور وعدوں کے لحاظ سے لسٹیں گزشتہ سال سے بڑھ کر رہیں تا کہ اس حصہ ثواب میں وہ دوسروں سے بڑھ جائیں۔میں اس موقع پر ایک دفعہ پھر ان لوگوں کو جنہوں نے ادائیگی چندہ کا اقرار کیا ہوا ہے، توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بغیر کسی کی تحریک کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی فکر کریں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سال کے آغاز میں پہلے تین چار ماہ تو دوستوں کی توجہ اس چندہ کی طرف رہی مگر پھر ان پر غفلت طاری ہوگئی نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں پچیس ہزار کے قریب چندہ میں کمی آگئی۔اس کے بعد میں نے پھر توجہ دلائی تو دوستوں میں بیداری پیدا ہوئی مر ستمبر کا مہینہ ختم ہونے پر دس پندرہ دن کے اندر اندر پانچ سات ہزار کی پھر کی ہوگئی۔اس کے بعد پھر توجہ دلائی گئی تو اب یہ حالت ہے کہ آمد قریباً قریباً گزشتہ سال کے برابر ہے۔صرف کسی دن کی وصولی پچھلے سال سے کم ہو جاتی ہے اور کسی دن کی وصولی پچھلے سال سے بڑھ جاتی ہے۔یہ طریق بھی انسان کے لئے ثواب کی کمی کا موجب ہوتا ہے اور یوں بھی یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ انسان اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ بھی دے اور پھر ذراسی غفلت سے اس کے ثواب میں کمی آجائے اور اس کی مستی سلسلہ کے لئے پریشانی کا موجب بن جائے۔پس ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ وعدہ کے بعد جلد سے جلد اپنے وعدے کو پورا کر دے۔اسی طرح وہ لوگ جن کے ذمہ گزشتہ سالوں کا بقایا رہتا ہے انہیں بھی اپنے بقائے صاف کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔میں نے بار بار کہا ہے کہ اگر وہ چندہ نہیں دے سکتے تو مجھ سے معافی لے لیں اور اگر دے سکتے ہیں تو جلد سے جلد دینے کا انتظام کریں۔وہ شخص جو چندہ دینے کی طاقت تو نہیں رکھتا مگر معافی بھی نہیں مانگتا ، وہ متکبر ہے۔کیونکہ وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اس نے چندہ دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور وہ اسے ادا کر دے گا مگر حالت یہ ہے کہ وہ ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا یا ادا کرنا چاہتا نہیں اور 57