تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 657 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 657

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود و 25 جنوری 1946ء اب میں اس پہلی تقریب پر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں (جلسہ سالانہ پر تو اللہ تعالی کے فضل۔جماعت کو خطاب کرنے کی توفیق مل گئی تھی۔اس کے بعد کوئی خطبہ یا تقریر نہیں کر سکا۔اس لحاظ سے یہ پہلی تقریب ہے۔کہ سترہ اٹھارہ ممالک میں ہمارے مبلغین اب گئے ہیں۔اور ان میں سے ایک ملک میں ان کے پہنچتے ہی وہاں سے تار آئی ہے کہ ہمیں دس مبلغین کی فوری ضرورت ہے۔ان مبلغین کے اخراجات اور کرایہ کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔میں تمام ایسے واقفین کو جن کو بلایا نہیں گیا، گو وہ اعلیٰ تعلیم نہ رکھتے ہوں لیکن وہ سمجھتے ہوں کہ وہ مبلغ کا کام سنبھال لیں گے، اس غرض کے لئے بلاتا ہوں۔اور چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ناموں سے ہمیں اطلاع دیں۔ہم عموماً اس وقت تک اعلی تعلیم کے لوگوں کو لیتے رہے ہیں۔یعنی عربی کے لحاظ سے مولوی فاضل اور انگریزی کے لحاظ سے بی۔اے یا ایم۔اے ، بعض ایف۔اے بھی تھے لیکن دینی لحاظ سے وہ اچھا علم رکھتے تھے۔ایسے لوگوں کو ہم لے لیتے ہیں کیونکہ یہ لوگ دنیوی علم تو خود پڑھ سکتے ہیں اور دینی تعلیم ، قرآن کریم کا ترجمہ اور حدیثیں ہم ان کو پڑھا دیتے ہیں۔اگر کوئی ایسے نوجوان ہوں، جو انٹرنس یا ایف۔اے پاس ہوں لیکن وہ قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہوں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کتب کا مطالعہ رکھتے ہوں، دینی امور سے واقفیت رکھتے ہوں تو ایسے نو جوانوں کو بھی جلدی باہر بھیجا جا سکتا ہے۔پس یہ وقت ہے کہ جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے اس کامیابی اور کامرانی کو حاصل کر سکتے ہیں، جو اس زمانہ میں احمدیت کے لئے مقدر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ آج ہی خدام الاحمدیہ نے شائع کیا ہے۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کو کتنی حسرت تھی ، اس بات کی کہ مسلمان اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں؟ آپ فرماتے ہیں۔میں نے بعض اخبارات میں پڑھا ہے کہ فلاں آریہ نے اپنی زندگی آریہ سماج کے لئے وقف کر دی ہے اور فلاں پادری نے اپنی عمر مشن کو دے دی ہے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ کیوں مسلمان اسلام کی خدمت کے لئے اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف نہیں کرتے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مبارک زمانہ پر نظر کر کے دیکھیں تو ان کو معلوم ہو کہ کس طرح اسلام کی زندگی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی جاتیں ہیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی اس سے مراد بھی درحقیقت وہی صحابہ کا نمونہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں زندگی وقف کرنے کا سوال ہی نہیں تھا کیونکہ اس زمانہ میں ہجرت فرض تھی۔خواہ کسی حصہ میں کوئی شخص ایمان لاتا ، اس کے لئے حکم تھا کہ فورا ہجرت کر کے مدینہ پہنچو اور خدمت اسلام کے لئے اپنی جان اور اپنا 657