تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 658

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم مال لگا دو۔ہمارے وقف اور صحابہ کے وقف میں فرق صرف اتنا ہے کہ ہم واقفین اپنے ملک سے باہر بھیجتے ہیں۔لیکن صحابہ دوسرے ملک سے اپنے ملک میں بلائے جاتے تھے۔اس زمانہ میں وقف کی یہ صورت تھی کہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچ جاؤ، ہمارے زمانہ میں وقف کی یہ صورت ہے کہ اپنا وطن اور اپنا گھر بار چھوڑ کر غیر ممالک میں اشاعت اسلام کے لئے چلے جاؤ۔دونوں صورتوں میں گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے، وطن سے بے وطن ہونا پڑتا ہے اور باہر جا کر دشمنوں سے جہاد کرنا پڑتا ہے۔پس ہمارے واقف جو حقیقی طور پر اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں، وہ بھی مہاجر ہیں۔کیونکہ انہوں نے اپنے وطن اور اپنے گھر بار چھوڑ دیئے اور دنیا کے گوشے گوشے میں اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ہماری جماعت میں ابھی بہت سے نوجوان ایسے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف نہیں کیں۔اگر وہ اپنی زندگیاں وقف کریں تو میرے نزدیک وہ سلسلہ کے لئے مفید وجود ثابت ہو سکتے ہیں۔کتنے افسوس کی بات ہوگی کہ تبلیغ اسلام کے لئے دس آدمیوں کی ضرورت ہو اور وہ بھی پوری نہ ہو اور دوسری طرف جنگ یورپ میں اپنی قوموں کی عزت کو برقرار رکھنے کے لئے لکھوکھا آدمیوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہو؟ اب جبکہ اسلامی جنگ شروع ہوئی ہے تو قدرتی بات ہے کہ باہر سے مانگ پر مانگ آئے گی۔ابھی پیچھے ہی ایک ملک کے مبلغین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اگر ہمیں بارہ مبلغ اور مل جائیں تو دس سال کے اندراندر ملک کی اکثریت احمدیت میں داخل ہو جائے گی۔وہ تمام قسم کے اخراجات خود برداشت کرنے کا وعدہ کرتے ہیں ، صرف ہم سے کام کرنے والے آدمی مانگتے ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ افریقہ میں ایک لاکھ شلنگ کا ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے کہ جس کی آمد سے ہمارے وہاں کے مبلغ لٹریچر وغیرہ شائع کریں گے۔یہ کتنی بیداری اور کتنا جوش ہے، جو ان ممالک میں احمدیت کے لئے نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے جوش اور اخلاص میں ترقی دے۔آمین۔دوسری سکیم میں نے وقف تجارت کی جماعت کے سامنے پیش کی تھی۔ابھی تک اس تحریک میں ساٹھ ستر نو جوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔میرے نزدیک اس میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان ابھی تک فوجوں سے فارغ نہیں ہوئے۔لیکن اس کے باوجود یہ تعداد کم ہے۔اگر یہاں کے لوگ جو فارغ ہیں، وہی اپنے آپ کو پیش کرتے تو یہ تعداد سینکڑوں تک پہنچ جاتی۔انہیں دینی فائدہ بھی ہوتا اور وہ دنیوی فائدہ بھی اٹھاتے۔تجارت ایک ایسی چیز ہے، جس سے یہ دونوں چیزیں حاصل ہوسکتی ہیں۔جس جگہ پر لاکھوں لاکھ روپیہ ہمارا سالانہ خرچ ہونا تھا، اس کی بجائے ہمیں کئی لاکھ روپیہ اس طرح سے مل جائے گا اور تبلیغ بھی 658