تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 656
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم کی طرف سے دو تاریں آئی ہیں۔ایک تار میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہمیں دس مبلغ بہت جلد بھیجے جائیں، کرایہ اور دیگر اخراجات کا انتظام ہم کریں گے۔اور دوسری تار میں انہوں نے یہ اطلاع دی ہے کہ جماعت نے مطلوبہ مبلغین کے لئے کرایہ اور دوسرے اخراجات کے لئے کئی ہزار روپیہ جمع کر لیا ہے، اب ہمیں فوراً مبلغین بھیج دیئے جائیں۔اسی طرح ایک اور جماعت سے اطلاع آئی ہے، جو ہے تو اس جماعت کی قدرت اور طاقت سے باہر لیکن رپورٹ آئی ہے کہ اس ملک کی جماعت میں ایک جوش پیدا ہو گیا ہے اور آپس میں انہوں نے تجویز کی ہے کہ ڈیڑھ لاکھ یا اس سے زیادہ روپیہ جمع کیا جائے اور پھر خلیفہ وقت کو اپنے ملک میں آنے کی دعوت دی جائے تاکہ مصلح موعود والی خواب میں وہ بھی شریک ہو جا ئیں۔کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں دوسرے ملکوں کی طرف جا رہا ہوں۔وہ چاہتے ہیں کہ اس خواب میں ان کے ملک کا بھی حصہ ہو اور وہ بھی اس میں شریک ہو جائیں۔ایک اور جگہ سے تار آئی ہے کہ وہاں انگریزی پڑھانے والے مدرسین کی بہت ضرورت ہے۔اور بی۔اے، بی۔ٹی پاس لوگوں کی وہاں بہت کھپت ہے۔گو یہ تبلیغ کا حصہ نہیں لیکن اشاعت اسلام اور تبلیغ احمدیت میں یہ لوگ بہت ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔یہ سب امور ایسے ہیں، جو فوری طور پر کام کی طرف توجہ چاہتے ہیں۔بہر حال ہم ان کی اس مانگ کو پیچھے نہیں ڈال سکتے۔اور اس وقت ہمارے پاس ایسے مبلغ موجود نہیں ، جن کو ہم فوری طور پر ان کے پاس بھیج دیں۔نئے مبلغ اس صورت میں ان کے پاس بھیجے جا سکتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے اور ان کو ابھی تک بلایا نہیں گیا، ان میں سے کچھ مولوی فاضل ہوں یا بعض انگریزی اعلیٰ تعلیم رکھتے ہوں۔مثلاً بی۔اے یا ایم اے ہوں۔اگر ایف۔اے یا انٹرنس پاس ہوں تو انہیں بھی کام پر لگایا جا سکتا ہے۔ایسے لوگوں کو وہاں بھیج دیا جائے اور وہاں کے مبلغین ان کو خود تیار کر لیں۔لیکن یہ کہ ہم ان کو تیار شدہ مبلغ دیں، یہ ہمارے لئے فی الحال مشکل ہے۔مجھے اس بیماری میں دل کو کمزور کرنے والی دوائیاں دی گئی ہیں۔کیونکہ اس مرض کا علاج ایسی ہی دوائیوں سے ہوتا ہے۔اور چونکہ مجھے دن میں ہر چار چار گھنٹے کے بعد دوائی دی جاتی تھی ، اس لئے طبعی طور پر میرے حافظے پر ان دوائیوں کا اثر پڑا۔اور میں بعض دفعہ بات کرتا کرتا بھول جاتا کہ کیا کہنے لگا تھا اور بعض دفعہ دومنٹ کے بعد بات بالکل بھول جاتی تھی۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اس بیماری میں ایسی دوائیاں پلائی جاتی تھیں، جو مجھے ایک قسم کے نشے میں رکھتی تھیں۔گودوائی تو نشہ آور نہیں تھی لیکن اس دوائی سے دل کی کمزوری ، ضعف اور نقاہت اتنی ہو جاتی تھی کہ میں مدہوش سارہتا تھا۔شاید ہمیں اللہ تعالیٰ اس بیماری سے بھی کوئی سبق دینا چاہتا ہے، اگر ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔656