تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 623
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء کر چلا جائے گا لیکن یہ ڈر رہا ہے اور اس کے ہاتھ اس لئے کانپ رہے ہیں کہ اگر روپیہ گر کر ضائع ہو گیا تو کہاں سے ادا کروں گا ؟ مگر وہ ہمت والے آدمی تھے ، انہوں نے چند پیسوں سے تجارت شروع کی اور ان کی تجارت اتنی بڑھی کہ ایک تحریک کے موقعہ پر انہوں نے ڈیڑھ سو سے زیادہ چندہ دیا۔جب انہوں نے یہ چندہ دیا تو مجھے وہ بات یاد آ گئی۔میں نے کہا دیکھو چالیس روپے حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ سے لے کر اس شخص کے ہاتھ کانپ رہے تھے کہ کتناروپیہ میرے سپرد کیا جا رہا ہے؟ مگر اب خدا تعالیٰ نے انہیں سینکڑوں روپیہ چندہ دینے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔تو انسان بہت تھوڑے پیسوں سے تجارت شروع کر سکتا ہے بشرطیکہ اس میں قربانی کی عادت ہو۔قادیان میں بیسیوں آدمی ایسے ہیں، جو شاید شرما کر اپنی پہلی حالت بیان نہ کریں۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ گو وہ اب سات سات، آٹھ آٹھ ہزار روپیہ کی جائیداد میں اپنے پاس رکھتے ہیں لیکن انہوں نے چند آنوں سے کام شروع کیا تھا۔ایک دوست ہیں، جن کی اب ہیں، پچیس ہزار کی جائیداد ہوگی ، ان کا مکان بھی ہے، زمین بھی۔انہوں نے چھ آنوں سے میرے سامنے کام شروع کیا تھا۔پس یہ کام اس طرح کا ہے کہ اس میں بغیر روپے اور بہت تھوڑی محنت کے ساتھ انسان بڑی کمائی کر سکتا ہے۔جو آدمی تجارت شروع کرتا ہے، پہلے وہ اپنی مزدوری کا کمایا ہوا کھاتا ہے۔پھر تجارت کی سمائی کھاتا ہے۔پھر تجارت کا کمایا ہوا جمع کرتا چلا جاتا ہے اور اسے نفع ہی نفع رہتا ہے۔غرض ہیں ہزار تاجر ہندوستان کے مختلف حصوں میں بھجوانا کوئی مشکل کام نہیں۔اگر انگریزوں کی لڑائی میں ہمارے پندرہ سولہ ہزار نو جوان چلے گئے ہیں تو کیا خدا تعالی کی لڑائی میں پانچ ہزار نو جوانوں کا جانا مشکل ہے؟ ( کیونکہ ابھی میرا پانچ ہزار کا مطالبہ ہے ) اور پھر ایسے رنگ میں جبکہ تم اپنی جماعت کا مستقبل شاندار بنانے کی کوشش کرو گے۔تم خود کھاؤ گے ، دین کے لئے چندہ دو گے اور اپنے رشتہ داروں کو بھی کھلاؤ گے۔پس ہماری جماعت کے لئے موجودہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے پچاس سال تک بھی ہیں ہزار مبلغ کا خیال کرنا ناممکن ہے لیکن ہیں ہزار تاجر بھیجنا کوئی مشکل کام نہیں۔میں نے بتایا تھا کہ ہندوستان سے باہر اگر ہم تبلیغ کو مد نظر رکھیں تو اس کے لئے کم سے کم پانچ سوروپے ماہوار فی مبلغ ہمیں خرچ کرنا پڑے گا۔بلکہ در حقیقت اگر ہزار روپیہ ہو تو کام اچھی طرح چل سکتا ہے۔کیونکہ صرف مکان کا کرایہ ہی وہاں تقریبا تین چارسور و پیہ دینا پڑتا ہے۔اگر پانچ سو روپیہ فی کس ہی رکھیں تو ہمیں ہزار مبلغوں کے رکھنے کے معنی یہ ہوں گے کہ ایک کروڑ روپیہ ماہوار اور بارہ کروڑ روپیہ سالانہ خرچ ہو گا۔یہ کم سے کم اندازہ ہے۔پھر ان کے آنے جانے کا خرچ بھی ہوگا۔اس طرح میں ہزار مبلغوں کے لئے در حقیقت چوبیس کروڑ روپیہ سالانہ 623