تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 622
خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم میں نے احمدیت کے متعلق کچھ نہیں سنا۔بہت سے ایسے ہوں گے، جنہوں نے احمدیت کے دلائل سنے ہوں گے اور ان میں جو سعید روحیں صداقت کی متلاشی ہوں گی ، وہ اس کو تسلیم بھی کر لیں گی۔پس یہ ایک ایسی تحریک ہے، جو ہمارے لئے کامیابی کا بہت بڑا راستہ کھولنے والی ہے۔موجودہ حالات میں ہمارے لئے ہیں ہزار مبلغ رکھنا بالکل ناممکن ہے۔کیونکہ میں ہزار مبلغ رکھنے کے لئے کئی کروڑ کی آمدن ہونی چاہیے اور ابھی ہماری آمدن چند لاکھ سے زیادہ نہیں۔ہاں میں ہزار تاجر بٹھا دینا کوئی مشکل نہیں کیونکہ ہر ایک نے اپنی جدو جہد سے کمائی کرنی ہے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے۔ایک بہت بڑا تاجر میر اواقف تھا۔اس کا لڑکا مجھے ملنے کے لئے آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے باپ نے تم کو الگ کر دیا ہے، وہ تو بڑا مالدار آدمی ہے تمہیں اس نے اپنے ساتھ شریک کیوں نہیں کیا ؟ کہنے لگا، حکیم صاحب جب میں جوان ہوا تو میرے والد نے مجھے کہا، دیکھو بیٹا میں غریب کنگال تھا، میں نے کمانا شروع کیا اور اب میرے پاس لاکھوں روپیہ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اسی طرح کماؤ تا تمہیں مال کی قدر معلوم ہو۔ایسا نہ ہو کہ تم میرے مرنے کے بعد روپیہ برباد کر دو اور میری محنت ضائع ہو جائے۔میں نے چند پیسوں سے تجارت شروع کی تھی مگر اب تمہارا باپ بہت امیر ہے، اس لئے میں تجارت کے لئے تمہیں چند روپے دے دیتا ہوں، اس سے تم تجارت شروع کرو اور ترقی کرو۔اب دیکھو، وہ نوجوان اس بات پر ناراض نہیں تھا کہ اسے کیوں الگ کر دیا گیا ہے؟ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مجھے میرے والد نے اس لئے علیحدہ کیا ہے تا میرے اخلاق درست ہو جائیں۔قادیان میں ایسے تاجر ہیں، جنہوں نے ہمیں بعض ضروریات کے مواقع پر سینکڑوں روپیہ چندہ دیا۔لیکن ہماری آنکھوں دیکھی بات ہے کہ ان میں سے کسی نے چار آنے سے کسی نے روپے سے تجارت شروع کی تھی۔حکیم عبدالرحمن صاحب کا غانی کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے۔اب تو وہ فوت ہو گئے ہیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے چالیس یا پچاس روپے ان کے ہاتھ میں دیئے اور کہا یہ لے جاؤ اور کسی کا نام لے کر کہا اس کو دے دو۔انہوں نے اپنے ہاتھ پھیلا کر آگے گئے اور روپے لے لئے۔اس وقت ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے لیکن میں نے اس کا خیال نہیں کیا۔حضرت خلیفہ اول چونکہ تجربہ کار تھے۔اس کے ہاتھ کو کا پتا دیکھ کر مجھے کہنے لگے، میاں اس کا ہاتھ دیکھو، کیا اس کے ہاتھ کانپا کرتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔کہنے لگے تو اب کیوں کانپ رہے ہیں؟ میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔فرمانے لگے، یہ ہمارے مسلمانوں کی بد بختی کی علامت ہے۔کسی ہندو کے ہاتھ میں دس ہزار روپیہ دے دو تو وہ بڑے آرام سے اپنے نیفے میں ڈال 622