تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 605

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 05 اکتوبر 1945ء دین کی خاطر کیا گیا ہے اور اس سے مجھے بھی فائدہ پہنچا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو دین میں شامل کیا۔اور اس میں بھی ہماری ہی عزت ہے۔بہر حال ہماری یہ کوشش رہتی ہے کہ احمدیہ جماعت کے لوگ ایسے کام اختیار کریں، جن کی وجہ سے جماعت کی اقتصادی حالت ترقی کرے۔میں نے پچھلے سال اس بات پر بڑا زور دیا تھا کہ جماعتوں کی ترقی کے لئے تجارت کی ترقی بڑی ضروری ہوتی ہے۔کیونکہ زمیندار اپنی زمینوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔اگر ایک جماعت کے پاس اتنی زمین ہے کہ فرض کرو، دس کروڑ روپیہ سالانہ اس کو آمدنی ہوتی ہے۔لیکن سیاسی حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ اس کو اپنا ملک چھوڑنا پڑتا ہے تو دس کروڑ والی جماعت دس پیسے کی حیثیت کی بھی نہیں رہے گی۔کیونکہ وہ زمین اٹھا کر ساتھ نہیں لے جاسکتی۔لیکن اگر کسی تاجر کے پاس دس لاکھ روپیہ ہے اور اسے ملک چھوڑنا پڑتا ہے تو وہ دس لاکھ نہیں تو آٹھ ، نو لاکھ روپیہ ضرور ساتھ لے جائے گا۔کیونکہ اس کا روپیہ حرکت کرنے والا ہے اور زمیندار کا روپیہ حرکت کرنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس قوم میں ہل آگیا ، وہ ذلیل ہو گئی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمین میں ہل چلانے کی وجہ سے لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جب اس پر کوئی دوسری قوم قابو پالیتی ہے تو پھر وہ بے بس ہو جاتی ہے۔کیونکہ وہ زمین اپنے ساتھ لے کر نہیں جا سکتی ، جو اس کی کمائی کا ذریعہ ہوتی ہے۔لیکن جو تاجر اور صناع ہوتے ہیں، ان کی یہ حالت نہیں ہوتی۔مثلاً ایک انگریز ہے۔اس کو اس کے ملک سے باہر نکال دو اور کہیں پھینک دو؟ وہ اپنی آمدنی ] اپنے ساتھ لے جائے گا کیونکہ اس کا مال اس کے دماغ میں ہے۔وہ جاپان جا کر بھی اپنا کام کرے گا ، وہ چین جا کر بھی اپنا کام کرلے گا، وہ امریکہ جا کر بھی اپنا کام کرے گا۔آخر ساری دنیا میں ایک حکومت نہیں ہوتی۔اگر آدھی دنیا بھی اس کی مخالف ہوگی تو آدھی اس کے حق میں سمجھ لو۔اگر 9/10 بھی اس کی مخالف ہو گی تو 1/10 تو ضرور اس کے حق میں ہوگی ، وہ وہاں جا کر اپنا کام کرے گا۔یہودی فلسطین میں زمیندار بنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ ان کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ان کی شہرت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں تجارت ہے۔یہی تجارت ان کو امریکہ میں لے جاتی ہے، فرانس میں لے جاتی ہے، جرمنی میں لے جاتی ہے، روس میں لے جاتی ہے۔اور جہاں جاتے ہیں، اپنے مال کو ساتھ لے جاتے ہیں۔اور جہاں چاہتے ہیں، رسوخ بڑھا لیتے ہیں۔میں نے پچھلے سال توجہ دلائی تھی کہ جماعت کے تاجروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ متحد ہو جائیں۔مگر باوجود میرے بار بار توجہ دلانے کے تاجروں نے سمجھ لیا کہ ہمیں بھلا کیا ضرورت ہے کہ ہم اس قسم کے اعلانات کی طرف توجہ کریں؟ ہم کامیاب تاجر ہیں، ہمیں ان کے مشوروں کی کیا ضرورت ہے اور ان محکموں سے کیا غرض ؟ حالانکہ تنظیم اس قدر ضروری چیز ہے کہ مجھے ایک دفعہ سر آغا خان کے ایک مرید 605