تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 606

خطبہ جمعہ فرموده 05 اکتوبر 1945ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم نے ، جو بڑی پوزیشن رکھنے والے ہیں، سنایا۔میں نے ایک دفعہ سر آغا خان سے کہا کہ اگر ہماری اولاد سے کسی کا ایمان آپ پر نہ رہے تو کیا کریں؟ سر آغا خان نے جواب میں کہا، بے شک وہ جو عقیدہ چاہے رکھیں مگر ان سے کہو کہ اپنے جتھے کو قائم رکھیں۔صرف مجھ کو تم سے فائدہ نہیں بلکہ تم کو بھی مجھ سے فائدہ ہے۔تم میں سے اگر کسی کو وائسرائے کے پاس کسی غرض کے لئے جانا ہو تو ضروری نہیں کہ ہر ایک وائسرائے کے پاس جا سکے۔اور نہ ہر ایک جاسکتا ہے۔ہاں میں اس کے پاس جا سکتا ہوں۔اس لئے سیاسی لحاظ سے جتھے کو قائم رکھو اور ایمان کے لحاظ سے خواہ تمہاری کوئی حالت ہو۔پھر اسی تاجر نے کہا کہ اس وقت دو بیٹے آپ کے سامنے بیٹھے ہیں۔ان میں سے ایک احمدی خیال کا ہے اور ایک سنی خیال کا ہے۔میں ان دونوں سے کہتا ہوں کہ بیشک تم احمدی ہو جاؤ یا بے شک تم سنی ہو جاؤ۔مگر بظاہر لوگوں سے کہا کرو کہ ہم سر آغا خان کے مرید ہیں۔کیونکہ سر آغا خان کی مدد بھی ہمیں کام دے جاتی ہے۔مذہب کے لحاظ سے خواہ یہ بات کس قدر نازیبا ہو مگر اس میں کیا شک ہے کہ جن اقوام کے جتے ہیں، وہ بڑی طاقت پکڑ جاتی ہیں۔اگر دین سے آزاد ہو کر لوگ جماعت بندی سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ دین کے ساتھ جتھہ بندی اور بھی زیادہ مفید ہوگی۔پس اگر ہماری جماعت کے تاجر بھی منتظم ہو جائیں تو ان کی ترقی کے لئے بہت بڑے بڑے اور نئے نئے راستے کھل جائیں گے۔اگر منتظم صورت میں نہ رہو گے تو اکیلا انسان کوئی حقیقت نہیں رکھتا ، چاہے کروڑ پتی کیوں نہ ہو ؟ ہندوستان میں بعض کروڑ پتی ایسے ہیں، جو امریکہ کے کروڑ پتیوں سے کم نہیں۔مگر امریکہ کے کروڑ پتیوں کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔اس لئے کہ امریکہ کے کروڑ پتی کے ساتھ ہزار ہالا کھ پتی بھی ہوتے ہیں۔مگر ہندوستان کے کروڑ پتی کے دائیں بائیں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوتا۔اس لئے اس کی سنی جاتی ہے اور اس کو کوئی نہیں پوچھتا۔تو تنظیم بڑی چیز ہے۔افسوس ہے کہ ایک سال گزر گیا مگر جماعت نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔شاید یہ وجہ ہے کہ ان میں سے جو کامیاب تاجر ہیں، انہوں نے یہ سمجھا کہ کیا ہم ان سے سیکھیں گے یا ان کو سکھائیں گے؟ ہم تو خود کامیاب تاجر ہیں، محکمہ ہمیں کیا سکھلائے گا ؟ محکمہ کا انچارج دس روپے تو کمانے کے قابل نہیں۔ان کو اس بات کا علم ہو جانا چاہئے کہ تنظیم کمانے کے قابل نہیں ہوا کرتی۔وہ کون سی چیمبرز آف کامرس ہے، جس نے آپ روپیہ کمایا ہو؟ اور وہ کون سی ٹریڈ ایسوسی ایشن ہے، جس نے خود پیسہ کمایا ہو؟ چیمبرز آف کامرس اور ٹریڈ ایسوسی ایشن روپیہ نہیں کمایا کرتی ، وہ تنظیم کر کے تاجروں کو ایک نئی طاقت دیتی ہے۔اس لئے یہ خیال کر لینا کہ اس کے چلانے والے اپنی ذات میں ماہر نہیں، ایسی ہی بات ہے، جیسے لیبر پارٹی اپنے افسر مزدور مقرر کر دے۔اب سر کر پس مزدوری کیا جانیں؟ مگر لیبر پارٹی سمجھتی 606