تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 582

خطبه جمعه فرموده 24 اگست 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کہ یہ لوگ مسلمان تو ہیں لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ منافق تھے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دماغوں میں اسلام کا مفہوم تو آ گیا تھا اور دماغی طور پر تو انہوں نے اسلام کو سمجھ لیا تھا لیکن ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا۔حقیقی ایمان اسی وقت حاصل ہوتا ہے، جب ایمان دماغ سے اتر کر دل میں داخل ہو جائے۔جیسے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی کے دلائل سنے اور عقلی طور پر اس بات کا قائل ہو جائے کہ خدا موجود ہے اور اس کی یہ صفات ہیں۔تو یہ اور بات ہے اور یہ کہ خدا تعالیٰ کی محبت انسان کے دل میں داخل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی محبت اس کی حیات کا جزو بن جائے ، یہ اور بات ہے۔فرض کرو، لیلی مجنوں کا وجود دنیا میں کوئی وجود تھا۔تو پھر لیلی کو دنیا میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمیوں نے دیکھا ہوگا۔اب جہاں تک اس کی آنکھوں کا سوال ہے کہ وہ چھوٹی تھیں یا بڑی ؟ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ اس کی آنکھوں میں سفیدی کتنی تھی اور سیاہی کتنی؟ جہاں تک اس کی گردن کا سوال ہے کہ بھی تھی یا چھوٹی ؟ جہاں تک اس کے جسم کی مناسبت کا سوال ہے کہ اس کے اعضاء میں تناسب تھایا نہیں ؟ اس کے ہاتھ پاؤں لمبے تھے یا چھوٹے ؟ اس کا رنگ سیاہ تھا یا سفید ؟ یہ چیزیں دیکھنے والوں کے لئے برابر تھیں۔لیکن دوسرے لوگوں کے دیکھنے اور مجنوں کے دیکھنے میں بڑا فرق تھا۔دوسرے لوگ لیلی کو دیکھتے تو وہ ان کے دماغ تک ہی رہ جاتی۔لیکن مجنوں نے دیکھا اور دیکھتے ہی وہ اس کے دل میں اتر گئی۔لوگوں نے لیلی کو دیکھا تو کہا اچھی ہے اور آگے چل دیئے۔لیکن مجنوں نے اسے دیکھا تو اس نے سب کچھ چھوڑ کر ساری عمر کے لئے لیلی کے دروازے پر گزاردی۔یہی فرق ان اشخاص میں ہوتا ہے جود مارغ یا دل سے کسی بات کو مانتے ہیں۔سینکڑوں آدمی ایسے ہوتے ہیں، جو دماغ سے تو ایک بات کو مانتے ہیں لیکن دل سے اس کو نہیں مانتے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے لئے کوئی قربانی اور ایثار نہیں کر سکتے۔جیسے لوگ بعض شاعروں کے شعروں کو پڑھتے اور ان کی تعریف کرنے لگتے ہیں مگر ان کے دل میں ان شعروں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔اس کے مقابل میں ایک ماں بھی اپنے اکلوتے بیٹے کی تعریف کرتی ہے مگر دونوں کی تعریف میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔کجا ایک آدمی کا شاعر کے شعر کو پسند کرنا اور کجا ماں کا اپنے بچے کو پسند کرنا۔اگر غالب کے شعروں کو پسند کرنے والے اور اس کے شعروں کی تعریف کرنے والے ایک آدمی کو دو تھپڑ مار کر پوچھا جائے کہ بتاؤ غالب کے شعر کیسے ہیں؟ تو وہ فورا کہہ دے گا کہ بہت برے ہیں۔لیکن اگر ماں کو قتل بھی کر دیا جائے تو بھی وہ اپنے بچے کی تعریف کرے گی۔دنیا میں ہزاروں مائیں مرتی ہیں اور بچے ان کی گود میں ہوتے ہیں۔دنیا ان کو مار سکتی ہے مگر بچے کی گردن 582