تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 581

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 24 اگست 1945ء لطیفہ مشہور ہے کہ تیمور ایران کو فتح کرتا ہوا جب شیر از پہنچا تو اس نے خواجہ حافظ کو بلا کر پوچھا کہ کیا یہ شعر آپ کا ہے کہ اگر آں ترک شیرازی بدست آور دل ما را بخال هندوش بخشم سمرقند و بخارا را حافظ نے کہاہاں، میرا ہے۔تیمور نے کہا تم بھی عجیب آدمی ہو، میں نے تو دنیا میں قتل وغارت کر کے لاشوں کے ڈھیر لگا دیئے ہیں محض اس لئے کہ سمرقند و بخارا کو عزت ملے اور تم ہو کہ اپنے معشوق کے ایک خال پر سمرقند و بخارا دینے کو تیار ہو گئے ہو۔تو سمرقند و بخارا کو عزت دینے اور اس کا نام بلند کرنے لئے تیمور نے لاشوں کے ڈھیر لگادیئے۔اس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کی ، اس نے اپنی قوم کی جان کی پروا نہ کی۔اور یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ کچھ عرصہ کے لئے اس کی قوم کو عزت حاصل ہو جائے۔مگر کتنے عرصے تک اس کی قوم کے پاس یہ عزت رہی؟ بمشکل چالیس سال تک تیمور کی قوم کے پاس یہ عزت رہی۔اسی طرح نپولین کی قوم بھی زیادہ دیر تک برسراقتدار نہ رہ سکی اور جلد ہی ختم ہوگئی اور ہٹلر کا تو کچھ بنا ہی نہیں۔وہ اپنی زندگی میں ہی ملک کی عزت کو ختم ہوتا دیکھ گیا۔لیکن اس کے باوجود انہوں نے جو قربانیاں کیں، وہ حیرت انگیز ہیں۔ان مثالوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ، ہماری جماعت کو غور کرنا چاہئے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے؟ ہمارے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم ساری دنیا کی اصلاح کریں، ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا قائم کریں ، ساری دنیا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی غلامی میں داخل کریں۔اس کام کے لئے ہمیں دن رات محنت کی ضرورت ہے، دن رات قربانیوں سے کام لینے کی ضرورت ہے اور دن رات اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔اگر ہم اس کام کو کرلیں، جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔یعنی ہم دنیا سے دہریت اور لامذہبیت کو مٹانے میں کامیاب ہو جائیں اور پھر دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کر دیں تو ہمارے جیسا خوش قسمت اور کون ہو سکتا ہے؟ اس کام کے نتیجے میں ہم ابد الآباد زندگی اور ابد الآباد انعامات کے وارث ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہمارے شامل حال ہوگی۔لیکن ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم ایمان میں ترقی کریں ، ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اخلاص میں ترقی کریں، ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم قربانیوں میں ترقی کریں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو رسمی طور پر جماعت میں داخل ہو جاتے ہیں۔یعنی عقلی طور پر انہوں نے جماعت کے عقائد کو مجھ لیا ہوتا ہے لیکن ان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا۔جیسے بعض لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے 581