تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 583

تحریک جدید- ایک الی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 24 اگست 1945ء میں حمائل ہونے والے ہاتھوں کو نہیں چھڑا اسکتی۔تو دل اور دماغ کی کیفیت میں بڑا فرق ہے۔اور وہی ایمان انسان کی نجات کا موجب ہوتا ہے، جو دماغ سے اتر کر دل میں بھی داخل ہو جائے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ وقت بہت نازک ہے، اپنے ایمانوں کی فکر کرو اور اپنی اصلاح کرو، ہستیوں اور غفلتوں کو ترک کرو۔میں نے تحریک جدید کے دس سالہ دور میں کئی بار بتایا تھا کہ یہ قربانی صرف دس سال کے لئے نہیں ہوگی بلکہ آئندہ بھی جاری رہے گی۔خواہ کسی صورت میں جاری رہے۔مگر افسوس کے بہتوں نے اس بات کو سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا۔خوب یا درکھو جس دن کسی قوم میں قربانی بند ہوئی، وہی دن اس قوم کی موت کا ہے۔قوم کی زندگی کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ قربانیوں میں ترقی کرتی چلی جائے اور قربانیوں سے جی نہ چرائے۔اگر ہم ساری دنیا کو بھی فتح کر لیں ، پھر بھی ہمیں اپنے ایمان کو سلامت رکھنے اور اپنے ایمان کو ترقی دینے کے لئے قربانیاں کرتے رہنا ہوگا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ جماعت ایک نازک ترین دور میں۔گزرنے والی ہے۔اس لئے اپنے ایمانوں کی فکر کرو۔کسی شخص کا یہ سمجھ لینا کہ دس پندرہ سال کی قربانی نے اس کے ایمان کو محفوظ کر دیا ہے، اس کے نفس کا دھوکا ہے۔جب تک عزرائیل ایمان والی جان لے کر نہیں جاتا ، جب تک ایمان والی جان ایمان کی حالت میں ہی عزرائیل کے ہاتھ میں نہیں چلی جاتی ، اس وقت تک کے ہم کسی کو محفوظ نہیں کہہ سکتے۔خواہ وہ شخص کتنی بڑی قربانیاں کر چکا ہو؟ اگر وہ اس مرحلہ میں پیچھے رہ گیا تو اس کی ساری قربانیاں باطل ہو جائیں گی اور وہ سب سے زیادہ ذلیل انسان ہوگا۔کیونکہ چھت پر چڑھ کر گرنے والا انسان دوسروں سے زیادہ ذلت کا مستحق ہوتا ہے“۔( مطبوع الفضل ) ( ستمبر 1945ء) 583