تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 577

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 24 اگست 1945ء اقرار کر لیں۔ابھی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ چھوٹی سی جماعت ہے، اس کا کیا ہے؟ اور ہندوستان میں تو ہماری کوئی ایسی نمایاں حیثیت ہی نہیں کہ ہم لوگوں کے سامنے بحیثیت جماعت آسکیں۔ہاں جیسے بعض بجو بہ پسند کسی عجیب چیز کا ذکر اپنی کتاب میں کر دیتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ ہم کو عجوبہ سمجھتے ہوئے اپنی کتابوں میں ہمارا بھی ذکر دیتے ہیں۔اور ہندوستان سے باہر تو صرف چند ممالک ایسے ہیں جن میں ہلکے طور پر ہمارے وجود کو تسلیم کیا جاتا ہے، ورنہ باقی دنیا ہماری کوئی اہمیت تسلیم نہیں کرتی۔جس طرح جنگل میں سے گزرنے والے شخص کی نظر بعض دفعہ جھاڑیوں اور بوٹیوں پر بھی پڑ جاتی ہے لیکن وہ ان کے وجود پر اتنی توجہ نہیں دیتا، جتنی توجہ وہ باغ میں اگے ہوئے مختلف پھولوں پر دیتا ہے۔باغ میں جانے والا شخص یاسمین کے پودے کے پاس جاتا ، اس سے لطف اٹھاتا اور اس کے متعلق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔گلاب کے پھول کے پاس جاتا، اس سے لطف اٹھا تا اور اس کے متعلق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔پھر کسی پھل دار درخت کے پاس پہنچتا ہے تو اس کی تعریف کرتا ہے۔لیکن جنگل میں سے گزرنے والا شخص درختوں اور جھاڑیوں کے پاس سے گزرتا چلا جاتا ہے، نہ ان پر اس کی نظر پڑتی ہے ، نہ وہ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور نہ وہ ان کا اس طرح جائزہ لیتا ہے جس طرح باغ میں جانے والا شخص باغ کے پھولوں کا جائزہ لیتا ہے۔جنگل میں سے گزرنے والا شخص لاکھوں کروڑوں جھاڑیوں کے پاس سے بے توجہی سے گزرجاتا ہے۔لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی نئی چیز کی کشش کی وجہ سے وہ کسی جھاڑی یا پھول کو کچھ دیر کے لئے توجہ سے دیکھتا اور اس کے متعلق اپنی رائے بھی قائم کر لیتا ہے۔لیکن وہ چیز دیر تک اس کے حافظہ میں نہیں رہتی اور اگلا قدم ہی اسے وہ جھاڑی بھلا دیتا اور کسی نئی جھاڑی کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔یہی دنیا میں ہماری حالت ہے کہ لوگ ہماری طرف اپنی توجہ بھی مبذول نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو وہ ایسی ہی ہوتی ہے ، جیسے جنگل میں سے گزرنے والا کبھی کسی جھاڑی کی طرف وقتی طور پر متوجہ ہو جاتا ہے۔لیکن وقت آرہا ہے، جب کہ ہمیں وہ پوزیشن حاصل ہو جائے، جو بچے کو حاصل ہوتی ہے۔ہمارے لئے ابھی جوانی کا وقت دور ہے۔اور دور سے میری مراد یہ ہے کہ وہ بلحاظ مدارج اور مراحل کے دور ہے، ورنہ خدا تعالیٰ چاہے تو وہ ایک دن میں بھی لاسکتا ہے۔اور اس کی قدرت سے بعید نہیں کہ ہم جو اندازے کرتے ہوں، وہ انہیں پانچ یا دس سال میں پورا کر دے۔مگر مراحل کے لحاظ سے ابھی جوانی کا زمانہ دور نظر آتا ہے۔جیسے بچے کو جوان ہونے میں کافی وقت کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ہماری جماعت کو اپنی جوانی تک پہنچے میں ابھی کافی وقت کی ضرورت ہے۔بلکہ ابھی تو ہماری جماعت کی پیدائش بھی نہیں ہوئی۔پیدائش 577