تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 578

خطبه جمعه فرموده 24 اگست 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کے بعد بچہ گونا کارہ ہوتا ہے اور وہ اٹھ کر نہ چل سکتا ہے، نہ باتیں کرسکتا ہے، نہ خیالات ظاہر کر سکتا ہے، نہ خیالات کو سن کر نتائج اخذ کر سکتا ہے۔لیکن پھر بھی دنیا اس بات کو مانے پر مجبور ہوتی ہے کہ وہ بھی ایک علیحدہ اور مستقل وجود رکھتا ہے۔خواہ وہ بے کا روجود ہو، خواہ دنیا اس کے متعلق یہ نہ بجھتی ہو کہ وہ بڑا ہوکر ہمارے اندر تغیر پیدا کر سکتا ہے یا ہمارا مقابلہ کر سکتا ہے یا ہمیں مشورہ دے سکتا ہے۔لیکن اس کے علیحدہ وجود ہونے سے انکار نہیں کر سکتی۔اسی طرح جب دنیا میں کسی قوم کی پیدائش ہوتی ہے تو لوگ اس کے وجود کا اقرار کر لیتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ قوم بھی دنیا کی اقوام میں گنے جانے کے قابل ہے۔گو اس کی اہمیت کو لوگ نہ سمجھتے ہوں یا اس کے متعلق وہ یہ نہ بجھتے ہوں کہ وہ دنیا میں عظیم الشان تغیر کا موجب ہوسکتی ہے۔ابھی دنیا کی اقوام میں ہماری قومی شخصیت اور فردیت تسلیم نہیں کی گئی اور جوانی تو ابھی دور ہے۔میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے دس سال میں جو باتیں اپنی جماعت کی ترقی اور دنیا کے تغیرات کے متعلق بتائی تھیں، ان کا نتیجہ دنیا کے سامنے آگیا ہے اور دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ وہ کس طرح لفظ بلفظ پوری ہوئی ہیں۔اور ان کی تفاصیل اسی طرح وقوع میں آئی ہیں ، جس طرح میں نے بیان کی تھیں۔اب میرے دل میں یہ بات میخ کی طرح گڑ گئی ہے کہ آئندہ انداز میں سالوں میں ہماری جماعت کی پیدائش ہوگی۔بچوں کی تکمیل نوماہ میں ہو جاتی ہے اور نو ماہ کے عرصہ میں وہ پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن بچے کی پیدائش اور قوم کی پیدائش میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ایک فرد کی پیدائش بے شک نو ماہ میں ہو جاتی ہے لیکن قوموں کی پیدائش کے لئے ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں آئندہ بیس سال کا عرصہ ہماری جماعت کے لئے نازک ترین زمانہ ہے۔جیسے بچہ کی پیدائش کا وقت نازک ترین وقت ہوتا ہے۔کیونکہ بسا اوقات وقت کے پورا ہونے کے باوجود پیدائش کے وقت کسی وجہ سے بچہ کا سانس رک جاتا اور وہ مردہ وجود کے طور پر دنیا میں آتا ہے۔پس جہاں تک ہماری قومی پیدائش کا تعلق ہے، میں اس بات کو شیخ کے طور پر گڑا ہوا اپنے دل میں پاتا ہوں کہ یہ بیس سال کا عرصہ ہماری جماعت کے لئے نازک ترین مرحلہ ہے۔اب یہ ہماری قربانی اور ایثارہی ہوں گے، جن کے نتیجہ میں ہم قومی طور پر زندہ پیدا ہوں گے یا مردہ۔اگر ہم نے قربانی کرنے سے دریغ نہ کیا اور ایثار سے کام لیا اور تقوی کی راہوں پر قدم مارا ، محنت اور کوشش کو اپنا شعار بنایا تو خدا تعالیٰ ہمیں زندہ قوم کی صورت میں پیدا ہونے کی توفیق دے گا اور اگلے مراحل ہمارے لئے آسان کر دے گا۔بچے کی پیدائش کا مرحلہ ہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، پھر اس کا بڑا ہونا پھولنا پھلنا، یہ یہ سب ایک ہی دائرہ اور ایک ہی چکر کی چیزیں ہیں اور وہ غیر معمولی حادثات نہیں کہلا سکتے۔لیکن بچے کا ماں کے 578