تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 576
خطبه جمعه فرموده 24 اگست 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہڈیاں بنتی ہیں اور پھر اس پر چھڑا چڑھتا ہے۔پھر آنکھ ، کان اور ناک وغیرہ اعضاء نمایاں شکل اختیار کرتے ہیں۔پھر بچے کو غذا لینے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ ناف کے ذریعہ اس کو حاصل کرتا ہے۔یہی مختلف حالات ہوتے ہیں، جن میں سے قومیں گزرتی ہیں۔اور یہی مختلف مراحل ہیں ، جن میں سے ہماری جماعت کو بھی گزرنا ہے۔بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جماعتیں یکساں طور پر ایک ہی حالت میں چلتی چلی جاتی ہیں۔ان کا یہ خیال حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔کیونکہ جماعتیں یکساں طور پر بھی ایک حالت پر نہیں رہتیں بلکہ ان کی حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔جیسے بچے کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچہ ابتدا سے اسی طرح بنا بنایا آتا ہے اور بڑھانا شروع کر دیتا ہے بلکہ اس کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔یہاں تک کہ علم حیات کے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ماں کے رحم میں بچہ اتنی شکلیں بدلتا ہے کہ دنیا کے تمام جانوروں کی شکلیں اختیار کرتا ہوا گزرتا ہے۔ایک وقت اسے خوردبین سے دیکھا گیا تو اس کی شکل مچھلی کی سی تھی ، دوسرے وقت اسے خوردبین سے دیکھا گیا تو اس کی شکل خرگوش کی سی تھی۔پھر کسی اور وقت اسے خورد بین سے دیکھا گیا تو اس کی شکل بندر کی سی تھی۔غرض ارتقاء کے مختلف دور جنین پر وارد ہوتے ہیں اور وہ یکے بعد دیگرے مختلف جانوروں کی شکلوں میں سے گزرتا ہوا آخر انسانی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔اسی طرح قوموں کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ یکساں طور پر چلتی چلی جاتی ہیں، ایک بے معنی خیال ہے۔ان کی شکلیں بدلتی چلی جاتی ہیں اور مختلف حالتوں میں گزرتی ہوئی ، وہ اپنے کمال کو پہنچتی ہیں۔اور آخر کار وہ وقت آجاتا ہے، جو اس قوم کی پیدائش کے لئے مقدر ہوتا ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کی پیدائش کا زمانہ وہ تھا، جب جنگ بدر ہوئی اور مسلمانوں کے مقابلہ میں عرب کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔گویا بدر کی جنگ کے موقع پر وہ جماعتی حیثیت سے دنیا کے سامنے آگئے اور لوگ یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ اب مسلمانوں کا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں۔بہر حال جماعتیں پہلے اسی رنگ میں ترقی کرتی ہیں، جس رنگ میں جنین رحم مادر میں ترقی کرتا ہے۔اور پھر جس طرح ایک دن جنین کی پیدائش عمل میں آجاتی ہے، اسی طرح قوموں پر ایک دن ایسا آتا ہے جب تدریجی رنگ میں ارتقائی مقامات کو طے کرتے ہوئے ، ان کی پیدائش معرض وجود میں آجاتی ہے۔یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ ہماری جماعت ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی، جس کو پیدائش کا مقام کہا جا سکے، یعنی دنیا ہمارے وجود کو تسلیم کرلے۔اور تو اور ابھی پنجاب میں بھی ہمارے وجود کو پوری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔گو ایک حد تک پنجاب میں ہمارے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن ایسے طور پر نہیں کہ لوگ علی الاعلان 576