تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 554

خطبہ جمعہ فرموده ۱۱ مئی 1945ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم کے لحاظ سے تو 1944ء میں ختم ہوتا ہے لیکن جہاں تک سارے ہندوستان کے لئے چندوں کی ادائیگی کا تعلق ہے، اس لحاظ سے یہ مدت اپریل 1945ء میں ختم ہوتی ہے۔اور جون یا جولائی اس لحاظ سے کہا تھا کہ بیرون جات کے چندوں کی ادائیگی کی آخری میعاد جون یا جولائی میں جا کر ختم ہوتی ہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ چندوں کی ادائیگی کی آخری تاریخ جو مقرر ہے ، وہ سات ہوتی ہے۔یعنی اگر ہندوستان کے ان علاقوں کے لئے جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، 31 جنوری مقرر ہے تو یہ میعاد 7 فروری کو جا کر ختم ہوتی ہے اور اگر ہندوستان کے ان علاقوں کے لئے جہاں اردو بولی اور مجھی نہیں جاتی ، 30 اپریل مقرر ہے تو یہ میعادسات مئی کو جا کرختم ہوتی ہے۔کیونکہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر وعدہ لکھوانے کی تاریخ 30 اپریل تک رکھی جائے تو چونکہ بعض جگہ ہفتہ میں ایک دفعہ ڈاک آتی ہے، اس وعدہ کے روانہ ہونے کی آخری تاریخ اگلے مہینے کی سات ہونی چاہئے۔اس اصل کے مطابق ہندوستان کے ان علاقوں کے لئے جہاں اردو بولی اور کبھی جاتی ہے، آخری میعاد سات فروری مقرر ہے۔اور ہندوستان کے ان علاقوں کے لئے جہاں اردو بولی اور سمجھی نہیں جاتی ، وعدوں کی ادائیگی کی آخری میعاد 7 مئی مقرر ہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ جس دلیل پر میری بنیاد تھی کہ تحریک جدید کے آخری سال کے اختتام یہ جنگ ختم ہوگی۔میری وہ بات اسی رنگ میں پوری ہوئی کہ جنگ نہ صرف اسی سال اور اسی مہینہ میں ختم کر ہوئی، جو میں نے بتایا تھا بلکہ عین سات مئی کو آکر سپردگی کے کاغذات پر دستخط ہوئے۔چونکہ وعدوں کی ادائیگی کے لئے ایک سال مقرر ہے، اس لئے دس سالہ دور تحریک کے چندوں کی ادائیگی کی آخری تاریخ حسب قاعدہ 7 مئی 1945ء ہوتی ہے۔اور اسی تاریخ کو سپردگی کے کاغذات پر جرمنی کے نمائندوں نے دستخط کئے۔گویا قانونی طور پر معین اسی تاریخ آکر جنگ ختم ہوئی ، جوتحریک جدید کے چندوں کی ادائیگی کے لحاظ سے سارے ہندوستان کے لئے آخری تاریخ ہے اور جس کے بارہ میں، میں بار بار اور متواتر اڑھائی سال سے اعلان کر رہا تھا۔خدا تعالیٰ کی قدرت کا یہ کتنا بڑا انشان ہے؟ صوفیاء لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ بندہ کی زبان اور ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللهَ رَبِّي کہ اے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بدر کے موقع پر جب تو نے مٹھی بھر کنکر پھینکے تھے۔بظاہر تو وہ تو نے ہی دعائیہ رنگ میں پھینکے تھے لیکن ہم نے تیرے ہاتھ کو اپنا ہاتھ بنالیا اور اسے کفار کی تباہی کا موجب بنا دیا۔تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے یہ سلوک رہا ہے کہ وہ ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ اور ان کی زبان کو اپنی زبان بنا لیتا ہے۔554