تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 529
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 جنوری 1945ء گا؟ اگر پانچ فی صدی منافع کا اندازہ لگا لیا جائے، جو زیادہ سے زیادہ اندازہ ہے۔گورنمنٹ تو اپنے کاموں میں عام طور پر اڑھائی فی صدی منافع کا اندازہ لگایا کرتی ہے۔لیکن اگر پانچ فیصدی منافع کا ہی اندازہ لگا لیا جائے تو عام کا روباری اندازہ کے مطابق تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کے لئے پانچ کروڑ بیس لاکھ روپیہ کاریز روفنڈ ہو تو اس سے تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ آمدنی ہو سکتی ہے۔اور پانچ فی صدی آمد رکھی جائے ،تب بھی اڑھائی کروڑ روپیہ سے یہ آمد پیدا ہوسکتی ہے۔پس جب تک ہماری جماعت دین کی ہر ضرورت کے موقعہ پر اپنارو پیر اور اپنی جانیں پیش نہیں کرتی، اس وقت تک اس کو کبھی کامیابی نہیں ہوسکتی۔خدا تعالیٰ کا کام تو ہو جائے گالیکن ہم دین کی خدمت کا ثواب حاصل کرنے اور اپنے ایمانوں کا ثبوت دینے سے قاصر رہیں گے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داریوں اور اپنے فرائض کو سمجھے اور دین کے لئے جہاں مالی ضرورتوں کو پورا کرنے کا سوال ہو، وہاں آگے بڑھ بڑھ کر اپنے اموال پیش کریں اور جہاں جانی قربانی کا سوال ہو ، وہاں آگے بڑھ بڑھ کر اپنی جانیں اور اپنی اولادیں دین کے لئے پیش کریں۔میں نے گذشتہ سے گذشتہ جمعہ کے خطبہ (05 جنوری 45ء) میں یہ تحریک کی تھی کہ جن کے ہاں کوئی اولاد نہ ہو یا ان کی اولاد چھوٹی ہو یا صرف لڑکیاں ہی ہوں لڑ کے نہ ہوں ، وہ کم از کم اتنا ہی کریں کہ تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے وظائف مقرر کریں۔اس تحریک میں اس وقت تک تین وظائف کے وعدے آ چکے ہیں۔بعض لوگوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر کوئی غریب ہو اور وہ اکیلا وظیفہ کے لئے رقم نہ دے سکے تو کیا وہ اور لوگوں کے ساتھ مل کر دے سکتا ہے؟ تو اس کے متعلق بھی میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہاں اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص اکیلا وظیفہ مقرر کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اس میں حصہ لے سکتا ہے۔اس وقت تک تین وظائف کے وعدے آچکے ہیں۔ایک تو میاں محمد احمد خاں صاحب، جو میرے بھانجے ہیں، انہوں نے ایک وظیفہ کے لئے نقد رقم جمع کرادی ہے اور ایک وظیفہ دینے کے لئے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے وعدہ کیا ہے اور انہوں نے دفتر محاسب کو لکھ دیا ہے کہ میری امانت میں سے یہ رقم ادا کر دی جائے اور ایک میری بیٹی اور ان کے خاوند نے وعدہ کیا ہے۔وہ مجھے کہتے تھے کہ ہم اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور میں نے انہیں کہا تھا کہ دفتر میں لکھوا دو۔غالبا انہوں نے لکھوا دیا ہوگا۔میں نے یہ نیت کی ہے کہ اگر خدا تعالی زیادہ کی توفیق دے گا تو اس سے زیادہ دوں گا لیکن انشاء اللہ دس سال تک کم از کم پانچ طالب علموں کو میں سالانہ وظیفہ دوں گا۔اور میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میں زندہ رہوں تو میں اس وعدہ کو پورا کرنے کا خود پابند رہوں گا اور اگر میں مرجاؤں تو میری جائیداد میں سے 529