تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 530
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جنوری 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم پہلے اس رقم کو پورا کر لیا جائے اور بعد میں پھر دوسرے ورثاء میں تقسیم ہو۔میر انشاء ہے کہ ہر سال چھ ہزار روپیہ میں داخل کرتا چلا جاؤں تا پہلے سالوں کی تعلیم پر جو کم رقم خرچ ہوگی اور بعد میں زیادہ خرچ ہوگی تا پہلے وقت کا بچا ہوا روپیہ دوسرے وقت میں کام دے۔یہ وعدہ دس سال میں پچاس طالبعلموں کو تعلیم دلانے کا ہوتا ہے، جس پر قریبا ایک لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔باقی میں نے اپنی اولاد اپنی طرف سے دین کی لئے وقف کی ہوئی ہے۔آگے کام کا ثواب تو انہوں نے خدا سے ہی لینا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو دین کی خدمت کا موقع ملے اور کس کو نہ ملے؟ میں نے اپنی طرف سے انہیں دین کے لئے وقف کیا ہوا ہے اور ان کو تعلیم دلانے میں بھی میں نے کلیه اس چیز کو مدنظر رکھا ہے۔میں نے اپنی اولاد میں سے کبھی ایک بیٹے کو بھی خالصہ اپنے لئے رکھنے کی خدا تعالی سے درخواست نہیں کی کہ خدا ہی کے دیئے ہوئے ہیں اور اسی کی چیز ہیں۔اس کی مہربانی اور اس کا احسان ہوگا تو ان کو اپنے دین کی خدمت کے لئے قبول فرمائے گا لیکن اگر وہ کسی کو اس کی غفلت کی وجہ سے رد کر دے تو میں بری الذمہ ہوں۔میں نے اپنے لئے ان کو لینے کی کبھی ضرورت نہیں سمجھی۔سوائے اس کے کہ اپنے گزارہ کے لئے باری باری کچھ عرصہ وہ جائیداد کا انتظام کریں تا دوسرے دین کا کام کر سکیں اور وہ بھی دوسرے وقت میں دین کا کام کر سکیں۔میرا تو عقیدہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باقی اولاد بھی اگر اس پر غور کرے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے احسان کے کہ اس شدید ترین گمراہی کے وقت میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے خاندان میں سے مبعوث فرمایا۔اس احسان کے بعد بھی اگر ہمارے اندر دنیا طلبی اور دین سے بے رغبتی پائی جائے تو ہم سے زیادہ بد قسمت اور کون ہو سکتا ہے؟ اس ایک احسان کے بدلہ اگر ہمارا سر قیامت تک خدا تعالیٰ کے آگے جھکا رہے تو ہم اس احسان کا بدلہ نہیں اتار سکتے۔یہ خدا تعالیٰ کا انتنا بڑا احسان ہے کہ اس سے بڑھ کر احسان ممکن نہیں۔میں سمجھتا ہوں اس احسان کو دیکھ کر اگر ہمارے خاندان کے لوگ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ فرمایا ہے کہ تری نَسُلاً بَعِید یعنی تیری نسل دور دور تک پھیل جائے گی اور جس طرح ہم نے ابراہیم سے وعدہ کیا تھا، اسی طرح تیری نسل بھی اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ گئی نہیں جائے گی۔پس اگر ہمارے خاندان کے افراد دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں تو تبلیغ اور مبلغوں کا سوال حل ہو جاتا ہے۔مگر بہر حال کسی ایک شخص کے اپنے آپ کو پیش کر دینے سے دوسرے لوگ بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔جب تک ساری جماعت اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش نہیں کرتی ، اس وقت تک 530