تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 524
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 19 جنوری 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اپنے ہمسایہ کو تبلیغ کر سکتا ہے، دوست اپنے دوست کو تبلیغ کر سکتا لیکن ایک اجنبی دوسرے اجنبی کو کیا تبلیغ کرے گا؟ میں نے بار ہا جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس جا کر بیٹھ جائیں اور ان سے جا کر کہیں کہ ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھیں گے، جب تک ہم آپ کو اپنی جماعت میں داخل نہ کر لیں اور آپ کو ہدایت نصیب نہ ہو جائے اور یا آپ ہم پر ثابت نہ کر دیں کہ ہم غلط راستہ پر جارہے ہیں۔اور وہ اپنے اوپر کھانا پینا حرام کر لیتے اور اپنے رشتہ داروں سے جا کر کہتے کہ یا ہم مر جائیں گے یا آپ کو ہدایت منوا کر رہیں گے۔مگر جماعت میں کتنے افراد ہیں، جنہوں نے یہ کام کیا ہے؟ بہت ہی کم ہیں، جنہوں نے اس طرف توجہ کی ہے۔اگر وہ اس طرف توجہ کرتے اور اس طریق پر عمل کرتے تو بہت اچھے نتائج پیدا ہو سکتے تھے۔"۔دوسری چیز جس کے متعلق میں نے اس جلسہ پر بھی اعلان کیا تھا اور بعد میں خطبہ جمعہ میں بھی جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ علماء پیدا کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ کثرت کے ساتھ طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں۔اور میں نے بتایا تھا کہ یہ کام بہت اہم ہے، بہت لمبا ہے۔اگر ایک مڈل پاس طالب علم مدرسہ میں داخل ہوتا ہے تو دس سال میں اس کی تعلیم مکمل ہوگی۔گو یا اگر ہم آج درخت لگا ئیں تو دس سال کے بعد ہمیں پہلا پھل ملے گا۔اگر آج تین طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں تو اس کے معنی ہیں کہ دس سال کے بعد ہمیں تین مبلغ ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔یہ کتنا ڈرنے کا مقام ہے۔ایک قوم جو دس سال کے بعد تین مبلغ پیدا کرے، وہ قوم تبلیغ نہیں کرتی بلکہ سنتی کر کے اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودتی ہے۔اگر آج دس طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں تو دس سال کے بعد دس مبلغوں کے تیار ہونے کی امید ہوسکتی ہے اور آج سے بیس سال بعد 100 مبلغوں کے تیار ہونے کی امید ہو سکتی ہے۔مگر ہمیں تو ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔میں سال کے بعد 100 مبلغوں سے کام کس طرح ہو سکتا ہے؟ ہماری تو جماعتیں ہی کئی ہزار ہیں۔ہندوستان میں آٹھ سو سے اوپر تو ہماری انجمنیں ہیں اور ایک ایک انجمن میں کئی کئی گاؤں شامل ہیں۔بعض انجمنیں ایسی ہیں، جن میں پندرہ پندرہ ہیں ہیں گاؤں شامل ہیں۔تو اگر ہم صرف احمدی گاؤں میں ہی مبلغ رکھیں تو ہزار ہا گاؤں میں احمدی ہیں۔جن کے لئے ہمارے پاس ہزاروں مبلغ ہونے چاہئیں اور پھر اس تعداد سے بہت زیادہ علاقے ہماری تبلیغ سے باہر رہ جائیں گے، جہاں کوئی احمدی نہیں۔تو یہ ہزاروں مبلغ بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اگر ہم سو یا دوسو طالب علم ہر سال مدرسہ احمدیہ میں داخل کریں۔اگر ایک سو طالب علم ہر سال مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں اور ان میں 524