تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 515

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 05 جنوری 1945ء تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔جلد دوم محاورہ ہے عتر العتيرة۔اس نے بت کے سامنے بکری کی قربانی پیش کی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قول کا یہ مطلب ہے کہ میں دو چیزیں چھوڑتا ہوں، ایک قرآن کریم اور دوسرے ایسے لوگ جو اپنی زندگیاں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔جب تک یہ دونوں چیزیں باقی رہیں گی ، اسلام مٹ نہیں سکتا۔شیعوں نے عترتی کے معنی حضرت علی اور اہل بیت کے کئے ہیں اور وہ اس سے ان کی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ حضرت علی بھی عترت تھے۔مگر دنیوی رشتہ داری کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ انہوں نے خدا کی راہ میں جان قربان کر دی۔ہم ان کی عترت ہونے کا انکار نہیں کرتے۔صرف اس وجہ کا انکار کرتے ہیں ، جو شیعہ پیش کرتے ہیں۔وہ ضرور عترت تھے مگر اس لئے تھے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر اپنی جان قربانی کے لئے پیش کر دی۔وو پس ہر وہ شخص جو دنیا پر لات مار کر دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرتا ہے اور ہر باپ جو اپنی اولاد کوتعلیم دلا کر دین کے لئے وقف کرتا ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عترت ہے۔جس سے اسلام زندہ رہ سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو چیزیں چھوڑیں ، ایک قرآن اور ایک عترت۔قرآن تو ہمیشہ رہے گا مگر عترت بدلتی رہے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زیبر ، حضرت سعد، حضرت سعید حضرت عبد الرحمن بن عوف اور دوسرے ایسے ہی صحابہ عترت تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک موقع پر یہ بھی فرمایا کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلُ الْبَيْتِ کہ سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے اور یہ کہ کر بتا دیا کہ میری عترت سے مراد صرف وہ لوگ نہیں ، جو صلب سے ہیں بلکہ وہ ہیں، جو دین کے لئے اپنی زندگیاں وو وقف کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں اپنی جانیں ذبح کئے جانے کے لئے پیش کر دیتے ہیں“۔جولوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کام کے چلانے والے ہیں، وہی آپ کی عترت ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں دو چیزیں اپنے پیچھے چھوڑ رہا ہوں جو ثقلان یعنی بوجھ ہیں۔ایسے بوجھ کہ جب تک وہ رہیں گے، دین آسمان پر نہ جائے گا۔یہ دو بوجھ ہوں گے جو دین کو زمین پر رکھیں گے۔جب یہ دونوں بوجھ اٹھ جائیں گے، اسلام بھی آسمان پر چلا جائے گا۔جیسا مسلمانوں میں سے قرآن کریم کا مفہوم اڑ گیا اور جب عترت اڑ گئی تو اسلام اڑ کر آسمان پر چلا گیا اور مسیح موعود علیہ السلام اسے دوبارہ دنیا میں لائے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُرَيَالَنَالَهُ رِجَالُ مِنْ هؤلاء اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا، جب مسلمانوں کو 515