تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 514
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 05 جنوری 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم کریں۔چالیس سال عمر کے موزوں آدمی بھی لئے جاسکتے ہیں۔انہیں سال ڈیڑھ سال ضروری تعلیم دینے کے بعد مختلف دیہات میں مقرر کر دیا جائے گا۔اور اسی طرح مدرسہ میں بھی داخلہ کے لئے ہر سال کم سے کم پاس طالب علم آنے چاہئیں، سو ہوں تو بہت بہتر ہے۔ان کی تعلیم آٹھ سال میں ختم ہوگی۔اگر پچاس ب علم ہر سال داخل ہوں تو اس کے معنی ہوں گے کہ آٹھ سال کے بعد ہمیں 25 آدمی تبلیغ کے لئے مل سکیں گے۔گویا اٹھارہ سال کے بعد 250 آدمی مل سکیں گے اور اگر ہر سال طالب علم داخل ہوں تو 18 سال کے بعد سوسو حاصل ہوں گے۔یہ کتنا لمبا عرصہ ہے؟ پھر لمبے عرصہ کے بعد بھی جو آدمی ملیں گے، وہ نا کافی ہوں گے کیونکہ دنیا میں تبلیغ کے علاوہ نئے آنے والوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے۔پس اپنے لڑکوں کو اس تحریک کے ماتحت پیش کرو اور جن کے ہاں اولاد نہ ہو یا ہومگر بڑی عمر کی ہو یا جن کے ہاں لڑکیاں ہی ہوں لڑ کے نہ ہوں تو وہ ایک دیہاتی مبلغ کا یا مدرسہ احمدیہ کے ایک طالب علم کا ماہوار خرچ یا چند دوست مل کر ایک طالب علم کا خرچ برداشت کریں، اس خطبہ کے بعد تین وظائف تین ماہ کے لئے میرے پاس آچکے ہیں۔) جو آج کل کے لحاظ سے نہیں روپیہ ماہوار سے کم نہیں ہوگا تا غرباء کے بچوں کو تعلیم دلائی جاسکے۔لیکن اصل قربانی تو جان کی ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام اللہ تعالیٰ نے ابراہیم بھی رکھا ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ دوستوں کو اسماعیل جیسی قربانی کرنی ہوگی۔ہر سال عید آتی ہے اور ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔آپ لوگ عید کے موقع پر بکرے ذبح کرتے ہیں مگر یہ اصل قربانی نہیں۔یہ تو صرف علامت ہوتی ہے، اس بات کی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آئے گا، آپ اپنی جانیں پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔مگر اب جانی قربانی کا وقت آگیا ہے لیکن دوست ابھی بکرے ہی پیش کرتے ہیں، جانیں پیش نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو آپ نے فرمایا :۔تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنَ كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي۔میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں یعنی قرآن کریم اور عترت۔شیعہ لوگ عترت سے مراد حضرت علیؓ لیتے ہیں مگر یہ میچ نہیں۔عترت کے معنی ہیں، وہ مخلص لوگ جو دین کی خاطر اپنے آپ کو ذبح کر دینے کے لئے تیار ہوں۔العتيرة اس قربانی کا نام ہے، جو بتوں کے آگے پیش کی جاتی تھی۔عربی میں 514