تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 516
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 05 جنوری 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم میں نہ قرآن رہے گا اور نہ میری عترت۔یہ دونوں ایسے بوجھ ہیں، جن کی وجہ سے ایمان زمین پر رہ سکتا ہے در نہ ایمان ایسی ہلکی چیز ہے کہ جب یہ بوجھ نہ رہیں گے تو وہ بھی نہ رہ سکے گا۔جب یہ بوجھ اٹھ جائیں گے، اسلام بھی اٹھ جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوبارہ اسے دنیا میں لائے ہیں۔مگر جو پہلے اڑ کر آسمان پر چلا گیا تھا ، اب بھی جاسکتا ہے۔اور جن دو چیزوں نے پہلے اسے دبایا تھا، وہی اب بھی دبا کر رکھ سکتی ہیں اور وہ دو چیزیں قرآن کریم اور عترت ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کا مفہوم دوبارہ سمجھایا ہے اور اس کی تفسیر بیان فرما دی ہے مگر قرآن کریم عترت کے دل میں ہی رہ سکتا ہے۔اگر باہر رہ سکتا تو پہلے اڑ کیوں جاتا؟ اصل قرآن وہ نہیں ، جو اوراق پر لکھا ہوتا ہے بلکہ وہ ہے، جو عترت کے دل میں ہوتا ہے اور جب عترت اڑے گی تو وہ بھی اڑ جائے گا۔پس ہر وہ خاندان جو خدمت سلسلہ کے لئے کسی کو وقف نہیں کرتا ، وہ قرآن کریم کے دنیا سے اڑنے میں مدد دیتا ہے اور وہ ایمان کے دنیا سے اٹھ جانے میں مدد دیتا ہے۔کیونکہ جب تک قرآن کریم اور عترت دنیا میں قائم نہ ہوگی ، ایمان قائم نہیں رہ سکتا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو اس نہایت ہی ضروری امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔تحریک جدید کے پہلے دور میں، میں نے اس کی تمہید باندھی تھی مگر اب دوسری تحریک کے موقع پر میں مستقل طور پر دعوت دیتا ہوں کہ جس طرح ہر احمدی اپنے اوپر چندہ لازم کرتا ہے، اسی طرح ہر احمدی خاندان اپنے لئے لازم کرے کہ وہ کسی نہ کسی کو دین کے لئے وقف کرے گا۔اور میں امید کرتا ہوں کہ سب دوست جلد سے جلد اس بلاوا پر لبیک کہیں گے تا احمدیت کی تبلیغ ہماری زندگیوں میں ہی دور دور تک پہنچ سکے۔اگر ہم نے زیادہ سے زیادہ آدمی دین کے سکھانے کے لئے جلد از جلد پیدانہ کر دیئے تو دین کے قیام میں خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ہمیں آدمیوں کا فکر نہیں بلکہ یہ فکر ہے کہ دین اپنی اصلی شکل میں دنیا میں قائم ہو جائے۔اس وقت دو قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ایک تو دیہاتی مبلغ ان کی تعلیم کم سے کم مڈل تک ہونی چاہئے اور انہیں سال ڈیڑھ سال تک تعلیم دے کر دیہات میں لگادیا جائے گا۔دوسرے ایسے مڈل پاس طالب علم جو مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کریں۔ابھی داخلہ میں تین ماہ کا عرصہ ہے، اس لئے ابھی سے اس کے لئے دوست تیاری کریں۔زیادہ نہیں تو فی الحال ہر ضلع سے چار پانچ طالب علم ضرور آنے چاہئیں۔اور بنگال اور بہار وغیرہ صوبوں سے جہاں جماعتیں کم ہیں، صوبہ بھر میں سے ہی چار پانچ 516