تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 496

اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہمارے امکان میں ہیں۔اور اگر پانچ ہزار مبلغ نہیں ملتے تو پانچ ، دس، پچاس یا سو مبلغوں سے ہی اس کام کی ابتدا کر دیں لیکن بہر حال یہ ایک عارضی عمارت ہوگی۔اس عمارت پر ہم اسلام کی آئندہ تعمیر کا کلیہ انحصار نہیں رکھ سکتے۔کیونکہ عمارت جس قدر بلند ہو، اسی قدر اس عمارت کی بنیادوں کا مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے۔جب ہمارا مقصد ساری دنیا میں اسلام اور قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت ہے تو اس کے لئے ہمارا یہ خیال کر لینا کہ ہم اپنی موجودہ کوششوں سے ہی کامیاب ہوسکیں گے، اول درجہ کی غلطی اور نادانی ہے۔55۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے کاموں کو بڑھاتے چلے جائیں۔یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے، جب ہم انتہائی قربانیوں سے کام لیتے ہوئے، پانچ ہزار مبلغین کے اخراجات آسانی سے برداشت کر سکیں اور ان کو ساری دنیا میں احمدیت کی اشاعت کے لئے پھیلا دیں۔دیکھو، ہم سے پہلے جو تو میں دنیا میں گزر چکی ہیں، انہوں نے دین کے لئے ایسی عظیم الشان قربانیاں کی ہیں کہ ان کے واقعات پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔وہ واقعات ایسے ہیں کہ آج بھی ہمارے لئے اپنے اندر بیسیوں سبق پنہاں رکھتے ہیں۔اور ہمیں اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ خدا کے لئے قربانی کرنے والے دنیا میں کبھی ضائع نہیں کئے جاتے“۔جس شہر یا گاؤں میں جاؤ، وہاں کے رہنے والوں سے اپنے لئے روٹی مانگو، اگر وہ دے دیں تو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کھالو اور اگر وہ انکار کریں تو اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ کر وہاں سے نکل جاؤ اور اپنی زبان پر شکوہ کا کوئی حرف مت لاؤ۔اگر اس طرح کام کرنے والے ہمیں بھی میسر آجائیں تو پھر پانچ ہزار مبلغوں کا بھی سوال نہیں۔دولاکھ مبلغ اس وقت ہمیں اپنی جماعت میں سے حاصل ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندروہی روح پیدا کریں، جو پہلے لوگوں نے پیدا کی۔اگر ہماری جماعت کا ہر فرد قربانی اور ایثار کے اس معیار پر آجائے ، جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو پھر اس امر کا بھی کوئی سوال نہیں رہے گا کہ کوئی شخص بی۔اے یا ایم۔اے پاس ہے یا نہیں؟ یا مولوی فاضل ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اس وقت ڈگریوں کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔وہ مانگتے اور تبلیغ کرتے چلے جائیں گے۔ایک مدرس ہو گا تو وہ بھی یہی طریق اختیار کرے گا۔ایک پروفیسر ہوگا تو وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔پھر ہماری تمام مشکلات حل ہو سکتی ہیں اور تبلیغ کا سوال، جو روپیہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے لئے بعض دفعہ پریشان کن صورت اختیار کر لیتا ہے، وہ دیکھتے ہی دیکھتے حل ہو سکتا ہے۔496