تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 480
اقتباس از خطبه جمعه فرموده کیم دسمبر 1944ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد دوم لانا آسان نہیں۔اگر ساری دنیا کے مسلمان ہمارے ساتھ متفق ہوتے تو نسبتا یہ کام آسان ہوتا مگر مسلمانوں کا ہمارے ساتھ متفق ہونا تو الگ رہا، وہ تو اجتماع کر کے اور انفرادی طور پر پور از در لگا رہے ہیں کہ اس جماعت کو ہے لگارہے تباہ کر دیں، جو اسلام کو اس کا حق دلانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ورثہ کو غیروں سے واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔بجائے اس کے کہ وہ ہماری مدد کرتے ، وہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ورثہ کو واپس لانے والی قلیل جماعت، جو انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔اس کو نقصان پہنچائیں تا کہ وہ بھی آسانی سے یہ کام نہ کر سکے۔پس ہم تھوڑے سے لوگ، جواتنے بڑے کام کے لئے کھڑے ہوئے ہیں، جب تک اپنی تمام طاقتوں کو مجنونوں کی طرح نہ لگادیں اور دیوانوں کی طرح ہر ایک قربانی کے لئے تیار نہ ہوں ، اس وقت تک یہ کام ہمارے ہاتھوں سے ہونا مشکل ہے“۔" پنجاب میں ہماری مردم شماری لاکھ سوالا کھ ہے۔آج سے دس سال پہلے ستر ہزار تھی تو اب لا کھ سوالاکھ ہوگی۔لیکن یوں ہماری تعداد اس سے زیادہ ہے کیونکہ مردم شماری میں کام کرنے والے لوگ متعصب تھے، اس لئے انہوں نے ہماری تعداد کم درج کی۔میرا اپنا اندازہ ہے کہ پنجاب میں ہماری تعداد اڑھائی لاکھ ہے اور سارے ہندوستان میں ساڑھے تین لاکھ ہے اور ہندوستان سے باہر ڈیڑھ لاکھ ہے۔اس طرح ساری دنیا میں ہماری تعداد کوئی پانچ چھ لاکھ کے قریب ہے، جو ہمیں معلوم ہے۔یوں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت سارے ایسے احمدی بھی ہیں، جن کا ہمیں پتہ نہیں یا ایسے ہیں، جو اپنے آپ کو چھپاتے ہیں۔ان کو ملا کر کوئی دس بارہ لاکھ کے قریب ہماری تعداد بنتی ہے۔مگر جو اپنے آپ کو چھپاتے ہیں، ان سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ہم صرف انہیں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جن کا ہمیں علم ہے اور جو منظم ہیں۔ایسی جماعت، جو منتظم ہے، وہ پانچ چھ لاکھ سے زیادہ نہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ قربانی کا بوجھ ہندوستان کی جماعت پر ہے۔ہندوستان سے باہر جو جماعتیں ہیں، ان میں بہت ساری ایسی ہیں، جو نو مسلموں کی جماعتیں ہیں، بہت ساری ایسی جماعتیں ہیں، جو غیر تعلیم یافتہ ہیں۔مغربی افریقہ میں ساٹھ ستر ہزار کے قریب احمدی ہیں اور ان میں سے ایک تعداد وہ ہے، جو احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے ننگے پھرا کرتے تھے، اب اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے انہوں نے کپڑے پہننا شروع کئے ہیں۔بہت سارے ایسے ہیں، جو جنگلوں میں رہتے ہیں اور ان کی کوئی آمدنی نہیں۔ان کی خوراک یہ ہے کہ سارا سال مکئی کا آٹا بھون کر پانی میں بھگو کر استعمال کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کی آمد کیا ہوگی؟ اور وہ ہماری کیا مدد کر سکتے ہیں؟ بہت سی بیرونی جماعتیں ایسی بھی ہیں، جو بوجھ اٹھا رہی ہے مگر ان کا بوجھ اٹھا نا محض اخلاص کے اظہار تک محدود ہے۔480