تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 481
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده کیم دسمبر 1944ء پس اصل بوجھ ہندوستان پر ہے۔جس میں ہماری تعداد ساڑھے تین لاکھ ہے تو ساڑھے تین لاکھ میں سے کمانے والا چالیس پچاس ہزار آدمی ہے، جس کا مقابلہ ساری دنیا کی دوا رب آبادی سے ہے۔اور یہ آبادی ایسی نہیں ، جو ہمارے کام کو محبت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ایسی آبادی نہیں ، جو ہمارے کام کو بے تو جہی سے دیکھتی ہے بلکہ یہ دوارب آبادی ایسی ہے، جس کا اکثر حصہ جتنی ہمیں مٹانے کی کوشس کرتا ہے، اتنی ہی اسے راحت محسوس ہوتی ہے۔پس اتنے بڑے دشمن کے مقابلہ میں اتنی تھوڑی سی جماعت جب تک اپنی قربانیوں کو انتہا تک نہ پہنچا دے، اس وقت تک کامیابی کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔اور اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا دینے پر بھی کامیابی اس لئے نہیں ہوگی کہ ہم نے اس کام کے برابر قربانی کر دی ہے بلکہ اس لئے ہوگی کہ جب ہم اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچادیں گے تو آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے، جو یہ کام کریں گے اور پھر بھی کامیابی ہمارے ہاتھ نہیں ہوگی بلکہ خدا کے ہاتھ سے ہوگی۔پھر بھی کامیابی ان تدبیروں کی وجہ سے نہیں ہوگی ، جو ہم زمین پر کریں گے بلکہ ان تدبیروں سے ہوگی ، جو ہمارا خدا عرش پر کرے گا۔اور اگر ایک دن نہیں، ایک گھنٹہ نہیں ، ایک منٹ نہیں بلکہ ایک سیکنڈ بھی ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی کوششوں اور اپنی تدبیروں سے کامیاب ہو سکتے ہیں تو ہمارے مجنون ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے حصول کے لئے جب تک ہم اپنے آپ کو مردوں کی طرح اس کے دروازہ پر نہ ڈال دیں، اس وقت تک اس کا فضل کھینچنے میں ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔پرسوں ہی انگلستان کی قربانیوں کی فہرست شائع ہوئی ہے، جو اس نے جنگ کے دوران میں کیں۔ان کو پڑھ کر حیرت آجاتی ہے۔جتنی قربانیاں انہوں نے اپنے ملک کو بچانے کے لئے کی ہیں، وہ ہمارے لئے قابل غور ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی جنگ چند سال کے لئے ہے اور ہماری جنگ ہمیشہ کے لئے ہے۔مگر پھر بھی یہ تو مد نظر رکھنا چاہیے کہ ہماری قربانیوں کو ان کی قربانیوں سے کوئی نسبت تو ہو۔انگلستان سکاٹ لینڈ اور ویلز کی آبادی ساڑھے چار کروڑ ہے اور اس پانچ سال کے عرصہ میں ساڑھے پانچ کروڑ کی آبادی میں سے پینتالیس لاکھ سپاہی انہوں نے تیار کیا ہے۔یعنی ہر دس آدمیوں میں سے ایک آدمی سپاہی بنایا گیا ہے۔ان کے ہاں کی جنگ میں جو مقام سپاہی کا ہے، وہی مقام ہمارے ہاں دینی جنگ میں مبلغ کا ہے۔اگر اسی لحاظ سے ہماری جماعت مبلغ تیار کرے تو ہندوستان کی ساڑھے تین لاکھ کی آبادی میں سے پینتیس ہزار مبلغ ہونے چاہئیں۔کجا پینتیس ہزار مبلغ اور کجا مبلغوں کی موجودہ تعداد اس وقت 481