تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 479

اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم میں آگے کیوں نہ رکھیں؟ اس لیے ہم نویں سال کے برابر چندہ دینے کی بجائے گیارہویں سال کا چندہ دسویں سال سے بڑھا کر پیش کرتے ہیں۔اور بعض ایسے ہیں، جنہوں نے خطبہ پڑھنے کے بعد ہی گیارہویں سال کا چندہ دسویں سال سے بڑھا کر پیش کر دیا اور انہوں نے لکھا کہ ہم تو زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے آگے ہی بڑھیں گے، پیچھے کی طرف بھاگ کر ہم اپنا ثواب کیوں کم کریں؟ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے متعلق تھوڑی سی عقل رکھنے والا انسان بھی سوچ سکتا ہے کہ ان کی قربانی کو اللہ تعالیٰ بھی ضائع نہیں کرے گا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا اور یہی وہ لوگ ہیں، جو دین اور دنیا میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے، جو ہر قربانی کے موقعہ پر نہ صرف یہ کہ ثابت قدم رہتے ہیں بلکہ ہر قربانی کے موقعہ پر دوسرا قدم پہلے قدم سے بڑھا کر رکھتے ہیں اور دین کے راستہ میں ہر قربانی کو خدا تعالیٰ کا فضل سمجھتے ہیں اور جس طرح انسان خدا تعالیٰ کے فضل کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح وہ ہر قربانی کو زیادہ سے زیادہ کر کے پیش کرتے ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ عام طور پر تو جماعت میں یہی احساس پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی قربانی کوگھٹا کر پیش کرنے کی بجائے پہلے سے بڑھا کر پیش کریں تا کہ وہ زیادہ ثواب حاصل کریں۔لیکن سینکڑوں لوگ ایسے ہیں، جو آٹھویں یا نویں یا دسویں سال میں آکر اس تحریک میں شامل ہوئے ، میں ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس غفلت میں اپنے ثواب کو کم نہ کریں کہ اب ہمیں پیچھے کی طرف جانے کی اجازت مل گئی ہے۔اور وہ گیارہویں سال کا چندہ نویں سال کے مطابق لکھوا کر اپنی قربانی کو حقیر نہ بنائیں ، وہ بے شک کمی کریں مگر اپنی موجودہ حیثیت کے مطابق۔نویں سال انہوں نے مثلاً چالیس یا پچاس روپے چندہ دیا تھا اور دسویں سال ان کا چندہ پانچ سو روپیہ تھا تو اب گیارہویں سال کے لیے اگر وہ کمی کریں تو دسویں سال کی حیثیت سے کریں ، نہ کہ نویں سال کے مطابق۔کیونکہ نویں سال کا چندہ ان کی حیثیت سے بہت کم تھا اور اس وقت کمی کی رعایت ان کو اس لیے دی گئی تھی کہ انہوں نے گزشتہ تمام سالوں کا چندہ اکٹھا ادا کرنا تھا۔اب جب وہ اس بار کو اتار چکے ہیں تو ان کو گیارہویں سال کا چندہ لکھواتے وقت اپنی موجودہ حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہیے، نہ کہ نویں یا آٹھویں یا ساتویں سال کے معیار کو، جو ان کی حیثیت سے بہت گرا ہوا ہے۔ہماری جماعت کو یہ بات یادرکھنا چاہیے کہ ہم جس کام کے لیے کھڑے کئے گئے ہیں، وہ کام بے دریغ قربانی چاہتا ہے۔جب تک ہم بے دریغ قربانی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، اسلام اپنے حق کو واپس نہیں لے سکتا، جو غیروں کے پاس جاچکا ہے۔رسول کریم کا ورثہ عیسائیت کے قبضہ میں جاچکا ہے، اس کو واپس 479