تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 460

خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1944ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم صوفیاء میں حقیقی تو کل نام کو باقی نہیں رہا۔کئی ایسے ہیں، جو تصوف کی آڑ میں ٹھگ بنے پھرتے ہیں اور لوگوں کے زیورات اور نقدی و غیرہ کسی نہ کسی بہانہ سے ٹھگ کر لے جاتے ہیں۔آج مسلمانوں میں نہ ظاہری شان و شوکت ہے ، نہ علوم ظاہری ہیں اور نہ تصوف۔ہر لحاظ سے ان پر ایک جمود کی حالت طاری ہے۔دیکھو عیسائیت کتنا جھوٹا مذہب ہے؟ وہ ایک بندے کو خدا بنا تا ہے۔مگر ان کے پادری کس جوش سے کام کرتے ہیں؟ کہیں وہ لوگوں کو علوم سیکھنے کی تحریک کرتے ہیں، کہیں لوگوں کو علوم سکھاتے ہیں، کہیں غرباء کی خدمت کرتے ہیں، کہیں بیماروں کا علاج کرتے ہیں ، مصیبت زدہ لوگوں کی مصائب اور مشکلات میں مدد کرتے ہیں اور ان میں ایک استغناء کا رنگ نظر آتا ہے، ایک وقار پایا جاتا ہے۔مگر ان کے مقابل مسلمان مولویوں کی کیا حالت ہے ؟ الا ماشاء اللہ ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب میں بددیانتی پائی جاتی ہے۔میں نے بچپن میں ایک دفعہ دیکھا کہ رام باغ امرتسر میں ایک مولوی صاحب جا رہے تھے اور پیچھے پیچھے ایک غریب آدمی ان کی منتیں کرتا جاتا تھا اور وہ مولوی صاحب اسے جھڑ کتے اور گالیاں دیتے جاتے تھے۔آخر مولوی صاحب آگے نکل گئے اور وہ بیچارہ پیچھے رہ گیا اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ میں مزدوری کرتا ہوں، مزدوری سے ہی تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر ان مولوی صاحب کے پاس جمع کراتا گیا کہ شادی پر خرچ کروں گا۔اب سویا و سور و پیہ جمع ہو گئے تو میں نے ان سے واپس مانگے مگر اس پر یہ مجھے گالیاں دیتے اور جھڑ کتے جاتے ہیں اور میری رقم دینے سے انکار کرتے ہیں۔تو ان لوگوں میں سے دیانت اور امانت بالکل مٹ گئی ہے اور ایسے حالات میں آج اسلام جس مددکا محتاج ہے، وہ ظاہر ہے۔جس قدر درد کا محتاج آج اسلام ہے اور کوئی مذہب نہیں۔فرض کرو اگر عیسائیت دنیا میں غالب آجائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کا نام دنیا سے مٹ گیا۔بدر کے موقع پر جب مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی ، یعنی وہ تین سو کے قریب تھے اور کفار کا لشکر بہت زیادہ تھا اور بظاہر مسلمانوں کے غلبہ کی کوئی صورت نہ تھی۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! اگر آج یہ مسلمانوں کا چھوٹا سا گروہ مٹ گیا تو دنیا میں تیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔وہی حال آج احمدیت کا ہے۔اگر یہ غالب نہ آئے ، اگر احمدیت کا درخت مرجھا کر رہ گیا تو دنیا میں خدا تعالیٰ کا نام لینے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔پس چاہئے کہ ہمارے سامنے خواہ کس قدر مشکلات ہوں، ہم اپنے خون کے آخری قطرہ تک کو خدا تعالٰی اور اسلام کی راہ میں بہا دیں اور اگر ہم اس کے لئے تیار نہیں ہیں، اگر ہم اس قربانی سے ہچکچاتے 460