تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 459

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1944ء آواز نہیں۔وہی حکومتیں جو آزادی کے نام پر جنگ کر رہی ہیں، ان میں سے ایک نے ایران کو نوٹس دیا ہے کہ اپنے تیل کے ذخائر ہمارے حوالے کر دو۔کیا یہی نوٹس کوئی انگلستان، امریکہ یا روس کو دے سکتا ہے؟ جس چیز کا ہزارواں حصہ اپنے بارہ میں مداخلت سمجھا جاتا ہے، اس بات کو دوسرے کمزور ہمسایوں کے بارہ میں حق اور جائز سمجھا جاتا ہے۔یہ صرف کمزوری کا نتیجہ ہے۔غرض آج مسلمانوں کا کوئی وقار دنیا میں نہیں۔پھر علمی لحاظ سے بھی ان کا وجود مٹتا جا رہا ہے۔ہندوستان کے پرانے علماء کی بھی یہی رائے ہے کہ پرانے علوم اب مٹتے جارہے ہیں اور اب مسلمانوں میں ان کے حصول کا شوق باقی نہیں رہا۔مصر کی ازہر یونیورسٹی ، جو ان علوم کی سب سے بڑی یو نیورسٹی ہے، اس سے لوگوں کی دلچسپی بھی کم ہو رہی ہے۔مصر میں بھی نئے علوم کی یونیورسٹیاں قائم ہورہی ہیں اور ہوشیار طلباء زیادہ تر ان ہی میں داخل ہورہے ہیں۔مسلمانوں میں اب تصوف بھی باقی نہیں رہا۔پہلے تو تصوف کے یہ معنے تھے کہ تصوف کی گدی پر بیٹھنے اور اس رستہ پر چلنے والا اللہ تعالیٰ کی ڈیوڑ ہی کا دربان ہوتا تھا مگر آج صوفی کے معنے دنیا کے پیسوں کا رکھوالا کے ہیں۔خدا تعالی کی مدد اور نصرت اب ان کے ساتھ نہیں رہی اور صوفی کہلانے والے تو کل کے مقام سے بہت دور ہیں اور اب صوفیوں میں عام دنیا داروں والی باتیں پائی جاتی ہیں۔مولوی امام الدین صاحب مرحوم ، جو قاضی اکمل صاحب کے والد تھے، ان کو تصوف کی باتوں کا بہت خیال رہتا تھا اور وہ ہمیشہ مجھ سے سوال کیا کرتے تھے کہ پرانے صوفیاء کی مجالس میں جو باتیں ہوتی تھیں، وہ یہاں نہیں ہیں؟ کبھی عرش پر سجد سے اور کبھی عرش پر خدا تعالیٰ سے باتیں ہوتی تھیں، یہ کمالات یہاں بھی دکھائے جائیں؟ میں ان کو جواب دیا کرتا تھا مگر ان کی تسلی نہیں ہوتی تھی۔ایک دن خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ بادشاہ کے نوکر کو کبھی یہ بھی فکر ہو سکتا ہے کہ اسے کھانا کہاں سے ملے گا؟ وہ تو جانتا ہے کہ جہاں سے بادشاہ کے لئے آئے گا، اس کے لئے بھی آجائے گا۔اگر ان صوفیاء میں جن کی مجالس کے قصے آپ بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ پر حقیقی تو کل ہو تو انہیں کوئی ذاتی ہوں نہ ہو اور دنیا کی محبت ان کے قلوب سے سرد ہو جائے۔آپ جن صوفیاء کا ذکر کرتے ہیں، کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان میں حقیقی تو کل پایا جاتا ہے؟ اور کیا انہیں اللہ تعالیٰ پر ایسا ایمان ہے کہ وہ خودان کا کفیل ہوگا اور کہ انہیں بندوں کی مدد کی ضرورت نہیں ؟ اس پر ان کی سمجھ میں بات آگئی اور انہوں نے کہا کہ بس اب میں سمجھ گیا۔انہوں نے کہا کہ میرے ایک استاد تھے اور جب بھی میں اس قسم کے سوالات کرتا تھا تو مجھے انہی کا خیال آیا کرتا تھا مگر ان کی عادت یہ تھی کہ جب غلہ نکنے کا موسم آتا تو وہ زمینداروں سے کہا کرتے تھے کہ ہمارا بھی خیال رکھنا۔تو آج 459