تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 461
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود 240 نومبر 1944ء ہیں، اگر ہمیں ایسا کرنے میں کوئی تامل ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونا محض ایک دکھاوا ہے، فریب ہے، مکاری ہے اور دغا بازی ہے۔دنیا میں لوگ انسانوں سے دھوکا کرتے ہیں، ایک دوسرے سے فریب کرتے ہیں اور دغا بازی سے کام لیتے ہیں اور شریف لوگ ایسے لوگوں کو ادنی اخلاق کا اور بہت گرا ہوا سمجھتے ہیں۔لیکن اگر ہم اس وقت خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہ کہیں گے، اگر اسلام کے لئے قربانی کرنے سے ہچکچائیں گے تو ہم ان لوگوں سے بھی گئے گزرے سمجھے جائیں گے، جو ایک دوسرے سے دھو کا کرتے ہیں۔کیونکہ یہ لوگ باوجود اپنے گرے ہوئے اخلاق کے اپنے لیڈروں کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ہم اگر خدا تعالی کی آواز پر بھی لبیک نہ کہیں تو ہم سے وہ دنیا دار لوگ ہی اچھے ہوں گے اور یہ ایک ایسا بدترین مظاہرہ ہوگا، جو ہمیں انسانیت کے درجہ سے گرا کر حیوانیت کے درجہ پر پہنچا دے گا۔بے شک قربانیوں کا رستہ لمبا ہوتا جاتا ہے مگر اچھی طرح یا د رکھو کہ جب تک کوئی قوم زندہ رہنا چاہتی ہے، اسے قربانیاں کرنی پڑیں گی۔قربانی کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں اور جس دن کوئی قوم یہ چاہیے کہ خدا تعالیٰ اس سے قربانی کا مطالبہ نہ کرے، اس کو ابتلاء میں نہ ڈالے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ چاہتی ہے کہ خدا تعالیٰ اسے چھوڑ دے۔قربانی کے مطالبہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ اسے یاد کر رہا ہے اور جو شخص قربانی کے دروازہ کے بند کئے جانے کا خیال بھی دل میں لاتا ہے، وہ ایمان کی حقیقت سے واقف نہیں۔جو امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قربانی کے دروازہ کو بند کر دے، وہ گویا دعا کرتا ہے کہ اے خدا مجھے چھوڑ دے، اے خدا مجھے بھول جا، اے خدا مجھے کبھی یاد نہ کر اور ظاہر ہے کہ ایسی دعا کرنے والا مومن نہیں ہو سکتا۔مومن کا جواب تو قربانی کے ہر مطالبہ پر وہی ہوتا ہے اور وہی ہونا چاہئے ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک شعر میں بیان فرمایا ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔در کوئے تو اگر عشاق را زنند اول کے کہ لاف تعشق زند منم یعنی اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ یار کے کوچہ میں ہر عاشق کا سرکاٹ دیا جائے گا تو اس فیصلہ کو سننے کے بعد جو سب سے پہلے یہ کہے گا کہ میں عاشق ہوں ، وہ میں ہوں گا۔خوب یا درکھو کہ موت ہی میں دراصل زندگی ہے اور قربانی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے لئے پیش کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے - 461