تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 457
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 24 نومبر 1944ء ایک ایسی بات ہے کہ کون امید کر سکتا ہے کہ یہ فتنہ کا موجب نہ ہوگی ؟ پھر ان لوگوں کی طرف سے اشتعال بھی دلا یا جا رہا تھا۔جس کے نتیجہ میں بعض لوگ اس بات پر آمادہ ہو جاتے کہ ہمارے مقدس مقامات پر حملہ کردیں، جیسا کہ پہلے ان کی طرف سے اس ارادہ کا اظہار بھی ہو چکا ہے۔پس ان لوگوں نے جو کچھ کرنا چاہا، وہ میری تجویز ہر گز نہ تھی۔میں نے جو بات پیش کی تھی ، اس کے مطابق اگر یہ لوگ چاہیں تو اب بھی انتظام ہو سکتا ہے۔وہ ایسی بات ہے کہ جس پر گورنمنٹ کو بھی اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں ہوسکتی۔اگر قادیان میں احمدی جمع ہوں اور اس مجمع میں کوئی غیر احمدی مولوی تقریر کرے تو گورنمنٹ کو فساد کا کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا اور ایسے اجتماع کے انعقاد کے لئے میں بھی ان کے ساتھ مل کر گورنمنٹ سے اجازت لینے کی کوشش کروں گا۔کیونکہ اس میں فتنہ کا کوئی خدشہ نہیں۔مگر ان لوگوں نے ایک نرالا ڈھونگ رچایا اور لوگوں کو اکٹھا کر کے قادیان پر یورش کرنا چاہی اور جب گورنمنٹ نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہ دی تو شور مچادیا کہ احمدیوں نے ہمارا جلسہ بند کرا دیا۔یہ میچ ہے کہ سلسلہ کے ایک افسر نے اس بارہ میں ذمہ وار سرکاری افسر سے ملاقات کی تھی۔مگر جب وہ ملا تو اس سرکاری افسر نے کہا کہ میں تو دوروز ہوئے ، اس جلسہ کے بند کئے جانے کا حکم دے چکا ہوں۔پس یہ بات غلط ہے کہ ان کے جلسہ میں روک جو پیدا ہوئی ، وہ ہماری وجہ سے ہوئی اور اس طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ ہمارے بعض جلسوں پر انہوں نے جو حملے کئے، پھر پھینکے اور احمدیوں کو زخمی کیا ، اس کی وجہ قادیان میں ان کے جلسہ کا بند کیا جانا ہے۔کیونکہ دہلی میں تو ہمارا جلسہ قادیان میں ان کے جلسہ کے اعلان سے بھی بہت پہلے منعقد ہوا تھا اور وہاں ہمارے جلسے پر ان لوگوں نے پتھر پھینکے اور حملے کئے تھے۔پس ان کا یہ کہنا کہ لاہور اور امرتسر وغیرہ مقامات پر سیرت النبی کے جلسوں کے موقعہ پر ان لوگوں نے جو حملے کئے ہیں، وہ قادیان میں ان کے جلسہ کو بند کرانے کا انتقام لیا ہے، بالکل غلط ہے۔وہلی میں ہمارے جلسہ پر اس قدر سخت پتھراؤ کے بعد یہ کہنا کہ یہ قادیان میں ان کا جلسہ نہ ہونے دیئے جانے کا انتقام ہے، صریح جھوٹ ہے۔پہلے ان لوگوں نے لدھیانہ میں ہمارے جلسہ کے موقعہ پر گالیاں دیں، پتھر پھینکے اور سوانگ نکالے۔پھر دہلی میں ہمارے جلسے پر پتھراؤ کیا۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ، جب آپ دہلی تشریف لے گئے تو مخالفین نے سخت شور وشر کیا۔پھر امرتسر میں جلسہ کو روکا اور پتھر پھینکے۔لاہور میں بھی اس طرح کیا۔یہ سب کچھ نصف صدی پہلے ان کے قادیان میں کون سے جلسہ کو روکے جانے کے انتقام کے طور پر کیا گیا تھا؟ اب بھی ان کے جلسہ کو اگر روکا تو حکومت نے روکا اور وہ اس لئے کہ اس سے فتنہ وفساد کی بو آتی تھی۔مگر یہ لوگ تو ہمیشہ سے ہمارے جلسوں پر پتھراؤ کرتے آئے 457