تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 456
خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کا خرچ بھی خود دوں گا اور یہ بات میں اب بھی کہتا ہوں کہ اگر ان کے کوئی بڑے عالم مثلا مفتی کفایت اللہ صاحب یا مولوی شبیر حسین صاحب دیو بندی مجھے لکھیں کہ وہ قادیان میں آکر احمدیوں کو اپنی باتیں سنانا چاہتے ہیں اور ان کے آنے پر غیر احمدیوں کا کوئی مظاہرہ یا جلسہ نہ ہوگا تو میں اس کا انتظام کر دوں گا اور ان کا خرچ بھی ادا کروں گا اور میں خود گورنمنٹ سے بھی یہ کہوں گا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور اس میں کوئی خطرہ کی بات نہیں۔اجتماع احمدیوں کا ہوگا، صرف ایک دو مولوی صاحبان تقریر کرنے والے باہر سے آئیں گے اور اس صورت میں فتنہ کا کوئی خوف نہیں۔مگر میں نے تو کہا تھا کہ اگر کوئی غیر احمدی عالم احمد یوں کو اپنی باتیں سنانے کے لئے قادیان آنا چاہے تو بے شک آئے ، میں اس کا خرچ بھی دوں گا مگر ان لوگوں نے سارے ہندوستان میں اعلان کیا کہ غیر احمدی کثرت سے قادیان پہنچیں اور وہاں ہماری باتیں سنیں۔حالانکہ غیر احمد یوں کو اپنے علماء کی باتیں سننے کے لئے قادیان آنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ یہ باتیں تو ہر جگہ سن سکتے ہیں۔کسی غیر احمدی عالم کے یہاں آنے کی غرض تو یہی ہو سکتی ہے کہ احمدیوں کو وہ باتیں سنائی جائیں۔پس میں اب بھی وہ بات کہتا ہوں، جو د ہلی میں کہی تھی کہ اگر کوئی غیر احمدیوں کا بڑا عالم یہاں آکر اپنی باتیں احمدیوں کو سنانا چاہے تو اس کا انتظام کر دوں گا اور اس کا خرچ بھی دوں گا اور گورنمنٹ سے بھی یہ کہہ دوں گا کہ اس کے یہاں آنے اور تقریر کرنے میں کوئی حرج نہیں اور وہ احمدیوں کے سامنے تقریر کرے تا اسے تسلی ہو سکے کہ جن لوگوں نے احمدیت کو قبول کیا ہے، نا واقفیت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ سوچ سمجھ کر کیا ہے اور اچھی طرح موازنہ کر کے کیا ہے۔اور اگر اس کا یہ خیال درست ہوگا کہ جو لوگ احمدی ہوئے ہیں، وہ دھو کہ کا شکار ہوئے ہیں تو اس کی تقریر سننے والے احمدی خود بخود اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔لیکن اگر ایسا نہیں تو اس تقریر کو سن کر ان کے ایمان اور زیادہ مضبوط ہوں گے۔غرض ان دونوں باتوں میں یعنی جو کچھ میں نے دہلی میں کہا اور جو کچھ احرار نے میری طرف منسوب کیا زمین و آسمان کا فرق ہے۔میں نے تو کہا تھا کہ ان کے علماء قادیان میں آکر احمدیوں کو اپنی باتیں سنانا چاہیں تو میں اس کا انتظام کر دوں گا۔مگر انہوں نے سارے ہندوستان میں یہ ڈھنڈورا پیٹ دیا کہ غیر احمدی جمع ہو کر قادیان چلیں۔میں نے تو کہا تھا کہ ان کی تقریر کے لئے انتظام میں کردوں گا مگر انہوں نے خود ہی لوگوں کو جمع کر کے قادیان میں لانے کی کوشش شروع کر دی۔قادیان ایک چھوٹی سی بستی ہے۔اس کی آبادی تیرہ چودہ ہزار سے زیادہ نہیں اور اس میں احمدیوں کی آبادی قریبا دس ہزار ہوگی تو ایک ایسی چھوٹی سی بستی میں چاروں طرف سے مخالفین کو اکٹھا کر کے لانا ، 456