تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 458
خطبہ جمعہ فرموده 24 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہیں۔31ء میں جب میں سیالکوٹ گیا تو میری تقریر کے وقت انہی مولوی عطاء اللہ صاحب کی انگیخت پر قریباً بیس ہزار کا مجمع پورا ایک گھنٹہ اور پانچ منٹ ہم پر پتھراؤ کرتا رہا اور پھر ان پتھراؤ کرنے والوں کی بہادری یہ تھی کہ جب مسٹر یوسٹس نے ، جو اس وقت وہاں ڈپٹی کمشنر تھے حکم دیا کہ اگر پانچ منٹ تک یہ مجمع منتشر نہ ہوا تو وہ پولیس کو حملہ کرنے کا حکم دیں گے تو پانچ منٹ کے اندر اندر ہی یہ لوگ اس طرح جلسہ گاہ سے غائب ہو گئے، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔پس ان لوگوں کا ہمارے جلسوں پر حملے کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ان فتنوں کے اس وقت اٹھنے میں اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ جماعت کو متنبہ کرے کہ اپنے آپ کو امن میں نہ سمجھنا، فتنے ابھی موجود ہیں اور دشمن احمدیت کو مٹانے کے لئے کھڑا ہے۔اگر ان حالات سے جماعت آنکھیں بند کر لے تو اس کی مثال وہی ہوگی کہ جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور وہ کسی بہتر نتیجہ کی امید نہیں کرسکتی۔پس یہ سامان اللہ تعالیٰ نے خود اس لئے پیدا کیا ہے کہ تادلوں سے غفلت کو دور کرے اور ہماری بستیوں کے ازالہ کا سامان فرمائے اور جیسا کہ اس سال کے شروع میں اس نے مجھے رویاء میں دکھایا تھا کہ اسلام کے لئے جنگ کرنے میں مجھے دنیا میں دوڑ نا ہوگا اور جب میں دوڑ وں گا تو ان لوگوں کے لئے ، جنہوں نے میرے ہاتھ میں ہاتھ دے رکھا ہے، دوڑنا لازمی ہوگا۔بیعت کرتے وقت ہاتھ میں ہاتھ دینے کے ایک معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ جس طرح ماں باپ جب تیز چلنے لگتے ہیں تو بچہ کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں تا وہ ساتھ ساتھ چل سکے۔اسی طرح بیعت کرنے والا بھی ہاتھ میں ہاتھ دے کر ساتھ چلنے کا اقرار کرتا ہے۔پس میں جب دوڑوں گا تو جن لوگوں نے میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی ہے، ان کے لئے بھی لازمی ہوگا کہ یا تو میرے ساتھ دوڑیں اور یا پھر اپنا ہاتھ کھینچ لیں۔اور جو شخص میرے ساتھ دوڑنے میں کوتا ہی کرتا ہے وہ گویا اپنی بیعت کے ناقص ہونے کا اقرار کرتا ہے۔یا درکھو کہ آج اسلام سے زیادہ کوئی مذہب حقیر اور کمزور نہیں۔وہی طاقتیں جو کسی زمانہ میں اس کی قوت کا موجب تھیں مثلاً ایران، افغانستان، بخارا، مصر و غیرہ وہ ایسی چھوٹی چھوٹی ہیں کہ ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں سمجھی جاتی۔اگر مصر، مرا کو، الجیریا، سوڈان ، عرب، شام، فلسطین،ترکی ، بخارا، البانیہ، ایران، افغانستان سب ایک حکومت کے ماتحت ہوتے تو دس بارہ کروڑ کی آبادی ، اس کی ہوتی۔جیسے امریکہ کی ہے اور اس صورت میں اس کی کوئی آواز بھی ہوتی۔مگر اب تو ایسا وقت ہے کہ شاید ان کی بات سننے کے لئے بھی کوئی تیار نہ ہوگا۔نام کو تو یہ کئی حکومتیں ہیں مگر چھوٹی چھوٹی اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی وجہ سے ان کی کوئی 458