تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 455
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1944ء کا موقعہ مل جائے گا۔اور عجیب بات ہے کہ مین اس موقعہ پر جب تحریک جدید کے دس سال پورے ہونے کو ہیں، اللہ تعالیٰ نے جماعت کے خلاف بعض فتنے پیدا کر دیئے ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ جماعت کے بعض دوستوں کے دلوں میں سستی کے خیالات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ان فتن میں سے ایک تو یہ ہے کہ احرار نے پھر قادیان میں جلسہ منعقد کرنے کی کوشش کی اور اس کی بنیاد اس امر پر رکھی کہ میں نے دہلی میں کہا تھا، احراری قادیان میں آئیں اور جلسہ کریں۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط تھی۔اصل بات یہ تھی کہ جب دہلی میں جلسہ ہوا اور میں وہاں گیا تو وہاں بعض لوگوں نے ہمارے خلاف سخت فتنہ اٹھایا ، بہت سے پتھر مارے اور حملہ کر دیا اور اس طرح کوشش کی کہ جلسہ نہ ہو سکے اور لوگ ہماری باتیں نہ سن سکیں۔اس پر میں نے کہا کہ یہ طریق بالکل غلط اور اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ہماری باتیں سننے میں ان لوگوں کا کیا حرج ہے؟ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ حق ان کے پاس ہے تو پھر ہماری باتیں سننے سے ان کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ اور پھر میں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ خیال کرتے ہیں کہ جو لوگ احمد کی ہوئے ہیں، وہ اس وجہ سے ہوئے ہیں کہ ان لوگوں کی باتیں سننے کا ان کو موقعہ نہیں مل سکا تو بے شک اپنے نقطہ نگاہ کو احمدیوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ان کا کوئی عالم قادیان آئے۔میں اس کا خرچ بھی خود دوں گا اور جماعت کے دوستوں کو جمع بھی کرادوں گا تا وہ انہیں اپنی باتیں سنا سکے۔اب ظاہر ہے کہ اس کا بات کا کہ جو آئے گا اس کا خرچ میں دوں گا اور اس کی تقریر سننے کے لئے احمدیوں کو جمع کرادوں گا، یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ جو آئے گا، وہ مجھے پوچھ کر آئے گا اور مجھ سے دریافت کر کے کہ آپ میری تقریر سننے کے لئے کب احمد یوں کو جمع کر سکیں گے ، آئے گا؟ میری بات کے یہ معنی تو کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتے کہ تمام ملک میں سے غیر احمدیوں کو قادیان پر یورش کرنے کی میں نے دعوت دی ہے۔میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ غیر احمدی اکٹھے ہو کر قادیان آئیں اور اپنے مولویوں کی تقریریں سنیں۔بلکہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ غیر احمدیوں کے کوئی بڑے مولوی اگر احمدیوں کو اپنی باتیں سنانے کے لئے آنا چاہیں تو میں ان کا خرچ بھی برداشت کروں گا اور ان کی باتیں سننے کے لئے احمدیوں کو جمع بھی کرادوں گا۔غیر احمد یوں کو اپنے مولویوں کی باتیں سننے کے لئے قادیان آنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو ان کی باتیں دہلی میں بھی سن سکتے ہیں، لاہور میں بھی سن سکتے ہیں، امرتسر میں بھی سن سکتے ہیں، ان کو یہاں آکر سننے کی کیا ضرورت ہے؟ میری غرض تو یہ تھی کہ غیر احمدی علماء کا اگر یہ خیال ہو کہ جو لوگ احمدی ہوئے ، وہ اس وجہ سے ہوئے ہیں کہ ہماری باتیں سنے کا انہیں موقعہ نہیں مل سکا تو وہ بے شک قادیان آکر اپنی باتیں احمدیوں کو سنائیں، میں ان باتیں سنے کا وہ بےشک قادیان آکر اپنی لوں میں، میں ان 455