تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 444
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم تقریر فرموده 22 نومبر 1944ء دیکھ کر اپنی حالت پر افسوس آتا اور حسرت ہوتی ہے۔ان کو سینکڑوں میل ایسے جنگلوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔کہ جہاں رستہ بھی نہیں ملتا اور ایسی غذا کھانی پڑتی ہے، جس کا کھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔اس نے مجھے لکھا ہے کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ عجیب بات ہے کہ آج ہی یہ دونوں چیزیں مجھے ملی ہیں۔یعنی پہلے مبلغ کے بخیریت پہنچنے کی اطلاع اور ایک مقامی مدرس کا خط جبکہ نئے جانے والے مبلغوں کو یہ آخری پارٹی دی جارہی ہے اور وہ کل روانہ ہورہے ہیں۔احمدیت کے آج بہت مخالف ہیں اور یہ مخالف ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔یہ مخالف ہمارے ہر کام میں نقائص نکالتے ہیں اور وہ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل آج دنیا میں ایک ایسی جماعت پیدا ہوگئی ہے، جو اسلام کی خاطر وہ تمام مصائب برداشت کر رہی ہے، جو صحابہ نے کیں۔مگر ابھی جماعت میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے، جو قربانی کرنے میں سست ہے۔اگر ایسے مصائب جو بیرونی ممالک کے مبلغین برداشت کر رہے ہیں، ساری جماعت اٹھانے کے لیے تیار ہو جائے تو ہم دلیری سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری جماعت صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والی ہے۔اگر جماعت کے سب دوست دین کے لیے ویسی ہی قربانیاں کرنے اور ویسی ہی تکالیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں جیسے بیرونی ممالک کے مبلغین کرتے ہیں تو بہت جلد ساری جماعت میں صحابہ کا رنگ پیدا ہو سکتا ہے اور ہم مخالفین کو چیلنج کر سکتے ہیں کہ ہماری جماعت صحابہ کے رنگ میں رنگین ہے۔لیکن ابھی بعض دوستوں میں ایسے نقائص ہیں کہ اگر ہم یہ بات پیش کریں تو مخالف وہ نقائص پیش کر کے ہمیں ساکت کر دے گا۔ہماری جماعت کے نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں سب کو چاہیے کہ خود بھی تحریک جدید پر عمل پیرا ہوں اور دوسروں سے بھی اس پر عمل کرائیں۔اپنی زندگیوں کو زیادہ سے زیادہ سادہ بنا ئیں۔کھانے پینے ، پہننے میں سادگی پیدا کریں۔اپنے ماحول کو سادہ بنا ئیں۔اپنی گفتگو میں سادگی اختیار کریں۔جب تک زندگی کے ہر شعبہ میں سادگی نہ اختیار کی جائے گی تبلیغ کماحقہ نہیں کی جاسکے گی۔جس شخص کی زندگی سادہ نہ ہو، وہ سادہ تمدن رکھنے والے لوگوں سے خطاب بھی نہیں کر سکتا ، وہ ان کو اپنی بات سمجھا بھی نہیں سکتا اور ان تک اپنی آواز نہیں پہنچا سکتا اور اس طرح ان کی ہدایت کا موجب نہیں بن سکتا۔پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ہوا آدمی میدان میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے کس طرح خطاب کر سکتا ہے؟ آدمی انہی لوگوں سے بات چیت کر سکتا ہے جو اس کے سامنے ہوں۔جو پہاڑ پر بیٹھا ہوا ہو، اس کو نیچے کا گاؤں نظر تو آسکتا ہے مگر وہ گاؤں کے 444