تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 445

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم تقریر فرمود : 22 نومبر 1944ء لوگوں سے بات چیت نہیں کر سکتا۔اسی طرح جن لوگوں کا تمدن بلند ہو ، سادہ تمدن کے لوگوں کے ساتھ ایسا تعلق نہیں رکھ سکتے، جو تبلیغ کے لیے ضروری ہے۔اور یہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا ، جب تک کے دوسروں کا تمدن بھی ویسا ہی بلند نہ ہو جائے یا اونچا تمدن رکھنے والے سادگی اختیار کر کے نیچے نہ آجائیں۔اور جب تک ہم تمدنی لحاظ سے دوسروں کو اوپر نہیں لے جاسکتے ، اس وقت تک ہمیں چاہیے کہ خود نیچے آجائیں۔ہاں جب سب لوگ اوپر آجائیں تو ہم بھی اوپر آسکتے ہیں۔اسلام مساوات چاہتا ہے اور اس کی یہی صورت ہے کہ یا سادہ تمدن رکھنے والوں کو اوپر لایا جائے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو دوسرے اور زیادہ سادگی اختیار کریں۔اگر کوئی جماعت چاہتی ہے کہ معیار زندگی کو بلند کرے تو اسے کوشش کرنی چاہیے کہ دوسروں کا معیار زندگی بھی بلند ہو۔اور جب تک یہ نہ ہو، اپنا معیار بھی نیچے رکھے تا مساوات قائم ہو سکے اور باہم میل جول میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔جب تک دنیا میں ایسی اقوام موجود ہیں، جواد نی حالت میں ہیں، اس وقت تک ہمارے لیے کسی اونچی جگہ کا خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں۔اس وقت تک ہمارے لیے ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالی جو کچھ دے لے لیں اور پھر اسے دوسروں کی بہتری اور بھلائی کے لیے خرچ کریں اور دوسرں کو اوپر لے جانے کے لئے اسے کام میں لائیں اور جب دوسرے بھی اوپر آجائیں تو پھر خود بھی آئیں۔صحابہ کرام نے بے شک دولتیں بھی کمائیں مگر انہیں اپنے آرام و آسائش پر خرچ نہیں کیا بلکہ دین کی راہ میں خرچ کرتے رہے۔ابھی دنیا میں اربوں انسان ایسے ہیں کہ جن کے جسم بھی اور جن کی روحیں بھی انتہائی غربت کی حالت میں ہیں اور ان سب کی اصلاح ہمارے ذمہ ہے۔جب تک ان کی اصلاح نہ ہو جائے ہمیں اپنے آرام کا خیال تک بھی نہ کرنا چاہئے۔اور اپنی زندگیوں کو ایسا سادہ بنانا چاہئے کہ غرباء کے ساتھ بآسانی مل سکیں اور اپنی باتیں انہیں سنا سکیں۔وہ ہمیں دیکھ کر دور نہ بھا گیں بلکہ قریب آئیں اور ہماری باتوں کو سنیں۔اگر ہمارے نوجوان اسی طرح غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے جاتے رہیں، جس طرح اب یہ نوجوان جارہے ہیں تو یہ ایک ایسی خوش کن بات ہو گی، جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ناز اور فخر کر سکتے ہیں اور ہم اس کام کی ابتداء کر سکتے ہیں کہ جو ہمارے سپرد ہے۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ دوسرے نوجوانوں میں بھی یہ احساس پیدا ہو، وہ اپنے آپ کو پیش کریں، اسلام کی تبلیغ کے لئے بیرونی ممالک میں جانے پر خوشی کا اظہار کریں اور ان لوگوں کے پیچھے ایک لمبی اور کبھی نہ ٹوٹنے والی زنجیر بنائی جاسکے۔ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش 445