تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 420

خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اخلاص سے چندہ دیں تو میں سجھتا ہوں کہ یہ رقم دے سکتی ہیں۔گوان علاقوں میں جماعتیں کم ہیں مگر آسودہ حال لوگ خاصی تعداد میں ہیں۔باقی تین حصے رہ گئے۔چونکہ ایک ترجمہ کے خرچ کا وعدہ لاہور کی جماعت نے اور ایک ترجمہ کے خرچ کا وعدہ قصور کے عبدالرحمن صاحب مل اونر نے کیا ہوا ہے اور یہ بارہ ہزار روپیہ کی رقم بنتی ہے اور صرف نو ہزار کی زائد ضرورت رہتی ہے، پس اس حصہ کی رقم کو پورا کرنے کی ذمہ داری میں اضلاع لا ہور، فیروز پور شیخو پورہ، گوجرانوالہ اور امرتسر پر مقرر کرتا ہوں۔یہ پانچ اضلاع مل کر اکیس ہزار روپیہ آسانی سے دے سکتے ہیں۔اگر جماعتوں کے کارکن اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو ان پانچ ضلعوں کے لئے یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔ایک ترجمہ قرآن مجید کی چھپوائی کا خرچ اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ، اکیس ہزار روپیہ صوبہ سرحد اور صوبہ سند ھ مل کر اٹھا سکتے ہیں۔ان صوبوں میں جماعتیں بے شک کم ہیں لیکن اگر وہاں کے کارکن صحیح طور پر کوشش کریں تو اتنا چندہ کوئی مشکل نہیں۔پھر اس کی ادائیگی کی مدت بھی ایک سال تک چلے گی۔اس لئے اس عرصہ میں ایسی کوشش کی جاسکتی ہے کہ بغیر دوسرے چندوں پر اثر ہونے کہ یہ رقم آسانی سے جمع ہو سکے۔31 اکتوبر 1945 ء تک اس وعدہ کی ادائیگی کی میعاد ہے۔اس کے متعلق مجھے پوری واقفیت نہیں کہ ان صوبوں میں جماعتوں کی تعداد کتنی ہے؟ اگر بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی تعداد تھوڑی ہے اور اس لحاظ سے اکتیں ہزاروپیہ کی رقم زیادہ ہوئی تو پھر پنجاب کے بعض اضلاع مثلاً ملتان، ڈیرہ غازی خان مظفر گڑھ 600۔راولپنڈی کیمل پور وغیرہ بھی ان کے ساتھ شامل کر دئے جائیں گے۔یہ چھ حصوں کی تقسیم ہوئی۔ساتویں ترجمہ قرآن مجید کی چھپوائی اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ میں ضلع لدھیانہ ضلع انبالہ، ریاست پٹیالہ، دہلی، یوپی اور بہار کے علاقوں کے ذمہ لگا تا ہوں۔یہ تین صوبے اور کچھ حصہ پنجاب کا ، ہندوستان کا یہ وسطی علاقہ قرآن مجید کے ایک ترجمہ کی چھپوائی کا خرچ اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ اکیس ہزار و پی میرے نزدیک آسانی سے جمع کر سکتا ہے۔ان سات جگہوں پر ایک ایک ترجمہ قرآن مجید کی چھپوائی اور ایک ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ میں نے خود تقسیم کر دیا ہے۔لیکن ایسا میں نے حکما نہیں کیا بلکہ ان کی آسانی اور سہولت کے لئے ایسا کیا ہے۔لاہور کے علاقہ کی ذمہ داری میں لاہور کی جماعت پر ڈالتا ہوں کہ وہ شیخو پورہ، گوجرانوالہ، فیروز پور اور امرتسر کے اضلاع سے مشورہ کریں اور اگر اس مشورہ کے بعد وہ ایک حصہ کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہوں تو ایک حصہ اس حلقہ کے لئے لے لیں۔اگر معلوم ہوا کہ یہ حلقہ اس رقم کو پورا نہیں کر سکتا اور کچھ کسر رہا جاتی ہے تو کچھ اور اضلاع اس حلقہ میں ملا دیئے جائیں گے۔لیکن اگر فرق زیادہ ہوا تو پھر یہ حصہ کسی اور ا 420